اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

{فَہَزَمُوۡہُمۡ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۟ۙ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوۡتَ وَ اٰتٰىہُ اللّٰہُ الۡمُلۡکَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ عَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآءُ ؕ وَ لَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۵۱﴾} 

[فَـہَزَمُوْہُمْ : تو ان لوگوں نے شکست دی ان لوگوں کو ] [بِاِذْنِ اللّٰہِ : اللہ کے اذن سے ] [وَقَتَلَ : اور قتل کیا ] [دَاوٗدُ : دائود نے] [جَالُوْتَ : جالوت کو ] [وَاٰتٰىهُ : اور دیا اس کو ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [الْمُلْکَ : ملک ] [وَالْحِکْمَۃَ : اور دانائی ] [وَعَلَّمَہٗ : اور اس نے سکھایا اس کو ] [مِمَّا : اس میں سے جس میں سے ] [ یَشَآءُ: اس نے چاہا ] [وَلَوْلاَ : اور اگر نہ ہوتا] [دَفْعُ اللّٰہِ : اللہ کا دفع کرنا ] [النَّاسَ : لوگوں کو ] [بَعْضَہُمْ : ان کے بعض کو ] [بِبَعْضٍ : بعض سے ] [لَّـفَسَدَتِ الْاَرْضُ : تو بگڑ جاتی زمین (نظم کے توازن میں) ] [وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ : اور لیکن اللہ ] [ذُوْ فَضْلٍ : فضل (کرنے) والا ہے] [عَلَی الْعٰلَمِیْنَ : تمام جہانوں پر ]

ھـ ز م

 ھَزَمَ (ض) ھَزْمًا : کسی خشک چیز کو دبا کر توڑ د ینا‘ شکستہ کرنا‘ شکست دینا‘ آیت زیر مطالعہ۔

 مَھْزُوْمٌ (اسم المفعول) : شکست دیا ہوا۔ {جُنۡدٌ مَّا ہُنَالِکَ مَہۡزُوۡمٌ} (صٓ:11) ’’ ایک لشکر ہے جو وہاں شکست دیا جانے والا ہے۔‘‘

د ف ع

 دَفَعَ (ف) دَفْعًا : (1) کسی چیز کو ہٹانا‘ دور کرنا۔ (2) کسی کو کسی چیز سے ہٹانا‘ بچانا‘ دفاع کرنا۔ (3) کسی چیز کو کسی کی طرف ہٹانا‘ دینا‘ حوالے کرنا۔ {فَاِذَا دَفَعۡتُمۡ اِلَیۡہِمۡ اَمۡوَالَہُمۡ فَاَشۡہِدُوۡا عَلَیۡہِمۡ ؕ} (النسائ:6) ’’ پھر جب تم لوگ ہٹائو ان کی طرف (یعنی حوالے کرو ان کے) ان کے اموال تو گواہ بنائو ان پر۔‘‘

 اِدْفَعْ (فعل امر) : مذکورہ تینوں معانی میں آتا ہے: (1) {وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُط اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ} (حٰم السجدۃ:34) ’’ اور برابر نہیں ہوتیں بھلائیاں اور نہ ہی برائیاں۔ تو دور کر (برائیوں کو) اس سے جو سب سے اچھی ہے۔‘‘ (2) {وَ قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوِ ادۡفَعُوۡا ؕ} (آل عمران:167) ’’ اور کہا گیا ان سے کہ تم لوگ آئو قتال کرو اللہ کی راہ میں یا دفاع کرو۔‘‘ (3) {فَادۡفَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ اَمۡوَالَہُمۡ ۚ} (النسائ:6) ’’ تو تم لوگ حوالے کرو ان کے ان کے اموال۔‘‘

 دَافِـعٌ (اسم الفاعل) : ہٹانے والا‘ بچانے والا۔ {اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ ۙ﴿۷﴾مَّا لَہٗ مِنۡ دَافِعٍ ۙ﴿۸﴾ } (الطور) ’’ یقینا تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے اس سے۔ کوئی بچانے والا نہیں ہے۔‘‘

 دَافَعَ (مفاعلہ) مُدَافَعَۃً اور دِفَاعًا : دفاع کرنا‘ بچانا‘ ہٹانا۔ {اِنَّ اللّٰہَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ} (الحج:38) ’’ بے شک اللہ ہٹاتا ہے ان سے جو لوگ ایمان لائے۔‘‘

 ترکیب :’’ فَھَزَمُوْا‘‘ کا فاعل اس کی ’’ ھُمْ‘‘ کی ضمیر ہے جو آیت 249 میں مذکور ’’ اَلَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ‘‘ کے لیے ہے۔ اس کے آگے ’’ ھُمْ‘‘ ضمیر مفعولی ہے جو گزشتہ آیت میں ’’ لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ‘‘ کے لیے ہے۔ ’’ وَاٰتٰىهُ اللّٰہُ‘‘ میں ’’ اٰتٰی‘‘ کا فاعل ’’ اَللّٰہُ‘‘ ہے‘ اس میں ’’ ہٗ‘‘ کی ضمیر ’’ دَاوٗدَ‘‘ کے لیے ہے اور یہ اس کا مفعول اوّل ہے‘ جبکہ’’ اَلْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃَ‘‘ مفعول ثانی ہیں۔ ’’ لَوْ لَا‘‘ شرطیہ ہے۔ ’’ دَفْعُ اللّٰہِ‘‘ سے ’’ بِبَعْضٍ‘‘ تک شرط ہے اور ’’ لَفَسَدَتِ الْاَرْضُ‘‘ جواب شرط ہے۔ ’’ دَفْعٌ‘‘ مصدر نے فعل کا کام کیا ہے اور ’’ اَلنَّاسَ‘‘ اس کا مفعول ہے‘ جبکہ ’’ اَلنَّاسَ‘‘ کا بدل ہونے کی وجہ سے ’’ بَعْضَھُمْ‘‘ منصوب ہوا ہے۔ ’’ اَلْعٰلَمِیْنَ‘‘ پر لامِ جنس ہے۔"

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں