{وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّ اجۡعَلۡ ہٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارۡزُقۡ اَہۡلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنۡ اٰمَنَ مِنۡہُمۡ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ قَالَ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاُمَتِّعُہٗ قَلِیۡلًا ثُمَّ اَضۡطَرُّہٗۤ اِلٰی عَذَابِ النَّارِ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۲۶﴾}
(وَاِذْ قَالَ : اور جب کہا ) (اِبْرٰھٖمُ : ابراہیم ؑ نے) ( رَبِّ : اے میرے ربّ!) (اجْعَلْ : تو بنا دے) (ھٰذَا : اس کو ) (بَلَدًا اٰمِنًا : امن میں ہونے والا شہر) (وَّارْزُقْ : اور تو رزق دے ) (اَہۡلَہٗ : اس کے لوگوں کو ) (مِنَ الثَّمَرٰتِ : پھلوں میں سے) (مَنْ : اس کو جو ) (اٰمَنَ : ایمان لائے ) (مِنْھُمْ : ان میں سے ) (بِاللّٰہِ : اللہ پر ) (وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن پر) (قَالَ : اس نے کہا) (وَمَنْ کَفَرَ : اور جس نے کفر کیا) (فَاُمَتِّعُـــہٗ : تو میں فائدہ اٹھانے کے لئے دوں گا اس کو (بھی) (قَلِیۡلًا : تھوڑا سا سامان) (ثُمَّ : پھر) (اَضْطَرُّہٗ : میں مجبور کروں گا اس کو) (اِلٰی عَذَابِ النَّارِ : آگ کے عذاب کی طرف ) ( وَبِئْسَ : اور وہ بہت ہی برا) (الْمَصِیْرُ : لوٹنے کا ٹھکانہ ہے)
ب ل د
بَلَدَ (ن) بُلُوْدًا : کسی جگہ آباد ہونا‘ شہر بنانا۔
بَلَدٌ واحد بَلْدَۃٌ جمع بِلَادٌ (اسم جنس) : شہر ‘ بستی۔ {وَ تَحۡمِلُ اَثۡقَالَکُمۡ اِلٰی بَلَدٍ } (النحل:7) ’’ اور وہ (یعنی چوپائے) اٹھاتے ہیں تمہارے بوجھ کسی شہر تک۔‘‘ {وَ اَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَہُوۡرًا ﴿ۙ۴۸﴾لِّنُحۡیَِۧ بِہٖ بَلۡدَۃً مَّیۡتًا } (الفرقان:48‘49) ’’ اور اس نے اتارا آسمان سے کچھ پاکیزہ پانی تاکہ وہ زندہ کرے اس سے کسی مردہ شہر کو۔‘‘ {لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِی الۡبِلَادِ ﴿۱۹۶﴾ؕ } (آل عمران) ’’ ہرگز دھوکہ نہ دے تجھ کو گھومنا پھرناان لوگوں کا جنہوں نے کفر کیا‘ شہروں میں۔‘‘
ص ی ر
صَارَ (ض) صَیْرًا اور مَصِیْرًا : منتقل ہونا‘ لوٹنا ۔{اَلَاۤ اِلَی اللّٰہِ تَصِیۡرُ الۡاُمُوۡرُ ﴿٪۵۳﴾} (الشوریٰ) ’’ خبردار رہو! اللہ کی طرف ہی لوٹتے ہیں تمام امور۔‘‘ {وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ وَ اِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۴۲﴾ } (النور) ’’ اور اللہ کے لئے ہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہت ہے ‘ اور اللہ کی طرف ہی لوٹنا ہے۔‘‘
مَصِیْرٌ : مصدر کے علاوہ اسم الظرف بھی ہے۔ لوٹنے کا ٹھکانہ۔ آیت زیر مطالعہ۔
ترکیب : ’’ رَبِّ‘‘ کی جر بتا رہی ہے کہ اس کی یائے متکلم محذوف ہے اور یہ ’’ رَبِّیْ‘‘ تھا۔ اس سے قبل حرف ندا ’’ یَا‘‘ کو بھی محذوف مانا جا سکتا ہے۔ فعل امر ’’ اِجْعَلْ‘‘ کا مفعول اوّل ’’ ھٰذَا‘‘ ہے جبکہ مرکب توصیفی ’’ بَلَدًا اٰمِنًا‘‘ مفعول ثانی ہے۔ فعل امر ’’ اُرْزُقْ‘‘ کا مفعول ’’ اَھْلَـــــہٗ‘‘ ہے۔ اس میں ’’ ہٗ‘‘ کی ضمیر’’ بَلَدًا اٰمِنًا‘‘ کے لئے ہے۔ ’’ مِنَ الثَّمَرٰتِ‘‘ متعلق فعل ہے۔ ’’ مَنْ‘‘ اَہۡلَہٗ پرحرفِ عطف نہیں ہے بلکہ اس سے بدل بعض ہے۔ ’’ قَالَ‘‘ کا فاعل اس میں شامل ’’ ھُوَ‘‘ کی ضمیر ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ ’’ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاُمَتِّعُہٗ قَلِیۡلًا ثُمَّ اَضۡطَرُّہٗۤ‘‘ میں’’ مَنْ‘‘ بمعنی ’’ اَ لَّذِیْ‘‘ موصول ’’ کَفَرَ‘‘ اس کا صلہ یا ’’ مَنْ‘‘ نکرہ موصوفہ ’’ کَفَرَ‘‘ اس کی صفت۔ موصول اور صلہ مل کر یا موصوف اور صفت مل کر فعل محذوف کے لئے مفعول۔ تقدیر عبارت یوں ہے:’’ قَالَ وَارْزُقْ مَنْ کَفَرَ‘‘۔’’ فَاُمَتِّعُـــــہٗ‘‘ جملہ فعلیہ معطوف ہے ’’ وَارْزُقْ‘‘ فعل محذوف پر۔