اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ الناس

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 

{قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۱﴾} 

[قُلْ اَعُوْذُ: آپؐ کہیے میں پناہ میں آتا ہوں][ بِرَبِّ النَّاسِ : انسانوں کے پروردگار کی]

نوٹ 1: سورۂ فلق اور سورۂ ناس، یہ دونوں سورتیں ایک ساتھ، ایک ہی واقعہ میں نازل ہوئیں۔ ابن قمّ  نے ان دونوں سورتوں کی تفسیر یکجا لکھی ہے۔ اس میں فرمایا کہ ان دونوں سورتوں کے منافع اور برکات سے سب لوگوں کی ضرورت ایسی ہے کہ کوئی انسان ان سے مستغنی نہیں ہو سکتا۔ ان کو سحر، نظر بد اور تمام جسمانی اور روحانی آفات دور کرنے میں تاثیر عظیم حاصل ہے۔ اس کا واقعہ اس طرح ہے کہ نبی کریم ﷺ پر ایک یہودی نے جادو کردیا تھا جس کے اثر سے آپ ﷺ بیمار ہو گئے تھے۔ جبرئیل ؑ نے آ کر آپ ﷺ کو اطلاع دی کہ آپ ﷺ پر ایک یہودی نے جادو کیا ہے اور جس چیز پر عمل کیا گیا ہے وہ فلاں کنویں میں ہے۔ آپ ﷺ نے وہاں آدمی بھیجے جو وہ چیز کنویں میں سے نکال لائے۔ اس میں گرہیں لگی ہوئی تھیں۔ آپ ﷺ نے ان گرہوں کو کھول دیا اور آپ ﷺ تندرست ہو گئے۔ جبرئیل ؑ نے آپ ﷺ کو اس یہودی کا نام بتا دیا تھا اور آپ ﷺ اس کا جانتے تھے، مگر اپنے نفس کے معاملہ میں کسی سے انتقام لیں آپ ﷺ کی عادت نہیں تھی، اس لیے آپ ﷺ نے اس یہودی سے عمر بھر کچھ نہ کہا۔ (معارف القرآن) ۔

نوٹ 2: جو لوگ سحر (جادو) کی حقیقت سے ناواقف ہیں ان کو تعجب ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جادو کا اثر کیسے ہو سکتا ہے۔ سحر کی حقیقت اور اس کے اقسام واحکام پوری تفصیل کے ساتھ سورۂ بقرہ کی تفسیر میں جلد اول صفحہ 217 تا 223 میں بیان کیے جا چکے ہیں، وہاں دیکھ لیے جائیں۔ یہاں اس کا جو خلاصہ جاننا ضروری ہے وہ اتنا ہے کہ سحر کا اثر بھی طبعی اسباب کا اثر ہوتا ہے۔ جیسے آگ سے جلنا یا گرم ہونا، پانی سے سرد ہونا، کسی سبب سے بخار آ جانا یا کسی مرض کا پیدا ہو جانا وغیرہ۔ یہ سب امر طبعی ہیں جن سے انبیاء مستثنیٰ نہیں ہوتے۔ اسی طرح جادو کا اثر بھی اسی قسم سے ہے اس لیے بعید نہیں۔ (معارف القرآن)

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں