سورۃ الاخلاص
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾}
[قُلْ: آپؐ کہیے][ هُوَ: حقیقت بس یہ ہے کہ][ اللّٰهُ اَحَدٌ: اللہ یکتا ہے]
ترکیب: (آیت۔1) اس کی مختلف ترکیبیں کی گئی ہیں۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ ھُوَ ضمیر الشان ہے۔ اَللّٰہُ مبتدا اور اَحَدٌ اس کی خبر ہے۔
نوٹ 1: قرآن مجید کی دوسری سورتوں میں بالعموم کسی ایسے لفظ کو ان کا نام قرار دیا گیا ہے جو ان میں وارد ہوا ہو۔ لیکن اس سورہ میں لفظ اخلاص کہیں وارد نہیں ہوا۔ اس کو یہ نام اس کے معنی کے لحاظ سے دیا گیا ہے جو شخص بھی اس کو سمجھ کر اس کی تعلیم پر ایمان لے آئے گا وہ شرک سے خلاصی پا جائے گا۔ جب رسول اللہ ﷺ توحید کی دعوت لے کر اٹھے تھے اس وقت دنیا کے مذہبی تصورات کیا تھے۔ (اس کا ایک ہلکا سا جائزہ سورۂ کافرون کے نوٹ۔2۔ کے آخر میں دیا ہوا ہے۔ مرتب) اس حالت میں جب اللہ وحدہٗ لاشریک کو ماننے کی دعوت دی گئی تو لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا لازمی تھا کہ وہ رب آخر کس قسم کا ہے کہ تمام معبودوں کو چھوڑ کر تنہا ایک ہی رب اور معبود ماننے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ قرآن مجید کا یہ اعجاز ہے کہ اس نے ان سوالات کا جواب چند الفاظ میں دے کر اللہ کی ہستی کا ایسا واضح تصور پیش کردیا جو تمام مشرکانہ تصورات کا قلع قمع کر دیتا ہے اور اس کی ذات کے ساتھ مخلوقات کی صفات میں سے کسی صفت کی آلودگی کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہنے دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی نگاہ میں اس سورت کی بڑی عظمت تھی اور آپ ﷺ مسلمانوں کو اس کی اہمیت محسوس کراتے تھے تاکہ وہ کثرت سے اس کو پڑھیں اور لوگوں میں اسے پھیلائیں۔ احادیث میں کثرت سے یہ روایات بیان ہوئی ہیں کہ آپ ﷺ نے لوگوں کو بتایا کہ یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ مفسرین نے اس ارشاد کی بہت سی توجیہات بیان کی ہیں۔ ہمارے نزدیک سیدھی بات یہ ہے کہ قرآن جس دین کو پیش کرتا ہے اس کی بنیاد تین عقیدے ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت۔ یہ سورہ چونکہ خالص توحید کو بیان کرتی ہے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کو ایک تہائی قرآن کے برابر قرار دیا۔ (تفہیم القرآن۔ ج 6۔ ص 530 تا 533 سے ماخوذ)
نوٹ 2: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے اس سورہ سے بڑی محبت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی محبت نے تمھیں جنت میں داخل کر دیا۔ ایک طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص صبح اور شام قل ھواللہ احد اور مُعَوِّذَتَیْنِ (یعنی سورہ فلق اور سورہ الناس) پڑھ لیا کرے تو یہ اس کو ہر بلا سے بچانے کے لیے کافی ہے۔ ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو ایسی تین سورتیں بتاتا ہوں کہ جو تورات، انجیل، زبور اور قرآن، سب میں نازل ہوئی ہیں۔ اور فرمایا کہ رات کو اس وقت تک مت سوئو جب تک ان تین کو نہ پڑھ لو۔ (یعنی مُعَوِّذَتَیْنِ اور قل ھواللہ احد) (معارف القرآن) مورخہ 21۔ ربیع الاول 1432 ھ بمطابق 25۔ فروری 2011 ء





