سورۃ اللھب
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{تَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ وَّ تَبَّ ؕ﴿۱﴾}
[تَبَّتْ: تباہ ہوں][ يَدَآ اَبِيْ لَهَبٍ: ابولہب کے دونوں ہاتھ][ وَّتَبَّ: اور وہ (بھی) تباہ ہو]
ترکیب: (آیت۔1) تَبَّتْ واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ اسی کا فاعل یَدَانِ ہے۔ مضاف ہونے کی وجہ سے نون تثنیہ گرا ہوا ہے۔ تَبَّ واحد مذکر غائب ہے۔ اس کا فاعل اس میں شامل ھُوَ کی ضمیر ہے۔ افعال ماضی میں خبر دینے کا مفہوم بھی ہوتا ہے اور دعا مانگنے کا بھی۔ (دیکھیں آیت۔2: 72، نوٹ۔2) اس آیت کے خبریہ اور دعائیہ، دونوں ترجمے درست مانے جائیں گے۔ ہم دعائیہ کو ترجیح دیں گے۔
نوٹ 1: قرآن مجید میں یہ ایک ہی مقام ہے جہاں دشمنانِ اسلام میں سے کسی شخص کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی ہے حالانکہ مکہ میں بھی اور مدینہ میں بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو اسلام اور محمد ﷺ کی عداوت میں ابولہب سے کسی طرح کم نہ تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس شخص کی وہ کیا خصوصیت تھی جس کی بنا پر اس کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی۔ وجہ یہ ہے کہ عربی معاشرے کی اخلاقی قدروں میں صلۂ رحمی کو بڑی اہمیت حاصل تھی اور قطع رحمی کو بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ عرب کی انہی روایات کا یہ اثر تھا کہ قریش کے دوسرے خاندانوں اور ان کے سرداروں نے تو حضور ﷺ کی شدید مخالفت کی مگر بنوہاشم نے نہ صرف آپ ﷺ کی مخالفت نہیں کی بلکہ وہ آپ ﷺ کی حمایت کرتے رہے، حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے تھے۔ قریش کے دوسرے خاندان اس حمایت کو عرب کی روایات کے عین مطابق سمجھتے تھے۔ اس لیے انھوں نے کبھی بنوہاشم کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ تم اپنے آبائی دین سے منحرف ہو گئے ہو۔ اس اخلاقی اصول کو صرف ایک شخص نے توڑ ڈالا۔ اور وہ تھا ابولہب جو آپ ﷺ کا سگا چچا تھا۔ یہاں تک کہ نبوت کے ساتویں سال جب قریش نے بنوہاشم کا معاشرتی اور معاشی مقاطعہ کیا اور بنو ہاشم کے تمام خاندانوں نے رسول اللہ ﷺ کی حمایت پر ثابت قدم رہتے ہوئے شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے تو تنہا یہی ابولہب تھا جس نے اپنے خاندان کا ساتھ دینے کے بجائے قریش کا ساتھ دیا۔ (تفہیم القرآن۔ ج 6۔ ص 520 تا 523 سے ماخوذ۔ اس کے باقی جرائم کی تفصیل ان ہی صفحات میں دیکھی جا سکتی ہے)





