سورۃ النصر
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَ الۡفَتۡحُ ۙ﴿۱﴾}
[اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ : جب آئے اللہ کی مدد][ وَالْفَتْحُ: اور وہ فتح ]"
{وَ رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا ۙ﴿۲﴾}
[وَرَاَيْتَ النَّاسَ : اور آپؐ دیکھیں لوگوں کو][ يَدْخُلُوْنَ: داخل ہوتے ہوئے][ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا : اللہ کے دین میں گروہ در گروہ ہوتے ہوئے]
نوٹ 1: آیت۔2۔ کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ زمانہ رخصت ہو جائے جب ایک ایک دو دو کر کے لوگ اسلام میں داخل ہوتے تھے اور وہ وقت آ جائے جب پورے پورے قبیلے ازخود مسلمان ہونے لگیں۔ آیت۔3۔ کا مطلب ہے کہ اپنے رب کی قدرت کا یہ کرشمہ جب تم دیکھ لو تو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔ اس میں حمد کا مطلب یہ ہے کہ اس عظیم کامیابی کے متعلق تمھارے دل میں کبھی یہ خیال نہ آئے کہ یہ تمھارے اپنے کمال کا نتیجہ ہے۔ بلکہ اس کو سراسر اللہ کا فضل وکرم سمجھو۔ اس پر اس کا شکر ادا کرو اور دل وزبان سے اس کا اعتراف کرو۔ تسبیح یعنی سبحان اللہ کہنے میں ایک پہلو تعجب کا بھی ہے۔ جب کوئی مُخیّر العقول واقعہ پیش آتا ہے تو آدمی سبحان اللہ کہتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ ہی کی قدرت سے ایسا حیرت انگیز واقعہ رونما ہوا ہے ورنہ دنیا کی کسی طاقت کے بس میں یہ نہیں تھا۔





