اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ الکافرون

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ       

{قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الۡکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾} 

[قُلْ يٰٓاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ: آپؐ کہہ دیجئے اے کافرو ]

نوٹ 1: مکہ معظمہ میں ایک دور ایسا گزرا ہے جب نبی ﷺ کی دعوت اسلام کے خلاف قریش کے معاشرے میں مخالفت کا طوفان تو برپا ہو چکا تھا، لیکن ابھی قریش کے سردار اس بات سے بالکل مایوس نہیں ہوئے تھے کہ حضورﷺ کو کسی نہ کسی طرح مصالحت پر آمادہ کیا جا سکے گا۔ اس لیے وقتاً فوقتاً وہ آپ ﷺ کے پاس مصالحت کی مختلف تجویزیں لے لے کر آتے رہتے تھے تاکہ آپ ﷺ ان میں سے کسی کو مان لیں۔ اس سلسلہ میں متعدد روایات احادیث میں منقول ہوئی ہیں۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک ہی مجلس میں نہیں بلکہ مختلف اوقات میں مختلف مواقع پر کفار قریش نے اِس قسم کی تجویزیں پیش کی تھیں۔ اور اس بات کی ضرورت تھی کہ ایک ہی دفعہ دو ٹوک جواب دے کر ان کی اس امید کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے کہ رسول اللہ ﷺ دین کے معاملہ میں کچھ دو اور کچھ لو کے طریقے پر ان سے کوئی مصالحت کرلیں گے۔

 اس پس منظر کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورہ مذہبی رواداری کی تلقین کے لیے نازل نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ آج کل کے بعض لوگ خیال کرتے ہیں، بلکہ اس لیے نازل ہوئی تھی کہ کفار کے دین، ان کی پوجا پاٹ اور ان کے معبودوں سے قطعی براءت کا اعلان کردیا جائے۔ اور انھیں بتا دیا جائے کہ دین کفر اور دین اسلام ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ ان کے باہم مل جانے کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ بات اگرچہ ابتدائً قریش کے کفار کو مخاطب کر کے ان کی تجاویز مصالحت کے جواب میں کہی گئی تھی لیکن اسے قرآن مجید میں درج کر کے تمام مسلمانوں کو قیامت تک کے لیے یہ تعلیم دے دی گئی ہے کہ دین کفر جہاں جس شکل میں بھی ہے مسلمانوں کو اس سے براءت کا اظہار کرنا چاہیے۔ (تفہیم القرآن۔ ج 6۔ ص 500۔ 501 سے ماخوذ) ۔"

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں