سورۃ الکوثر
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ ؕ﴿۱﴾}
[اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ: بیشک ہم نے عطا کی آپؐ کو][ الْكَوْثَرَ: بےانتہا (خیر)]
نوٹ 1: کوثر کے معنی ہیں بہت زیادہ بھلائی اور بہتری۔ یہاں اس سے کیا چیز مراد ہے اس کے متعلق متعدد اقوال ہیں۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ اس لفظ کے تحت ہر قسم کی دینی ودنیوی اور حِسی ومعنوی نعمتیں داخل ہیں جو آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے طفیل اس امت کو ملنے والی تھیں۔ ان میں سے ایک بہت بڑی نعمت وہ حوض کوثر ہے جس کے پانی سے آپ ﷺ اپنی امت کو محشر میں سیراب فرمائیں گے۔ بعض روایات سے اس کا محشر میں ہونا اور اکثر سے جنت میں ہونا ثابت ہوتا ہے۔ علماء نے اس کی تطبیق یوں کی ہے کہ اصل نہر جنت میں ہوگی اور اسی کا پانی میدان حشر میں کسی حوض میں جمع کردیا جائے گا۔ (ترجمہ شیخ الہند )
یہ انتہائی سخت وقت ہو گا جبکہ ہر ایک اَلْعَطَش۔ اَلْعَطَش (پیاس پیاس) پکار رہا ہو گا۔ اس وقت آپ ﷺ کی امت اس حوض پر حاضر ہوگی اور اس سے سیراب ہوگی لیکن کچھ لوگ محروم رہیں گے۔ اس کے بارے میں حضورﷺ نے بار بار اپنے زمانے کے لوگوں کو خبردار کیا کہ میرے بعد تم میں سے جو لوگ بھی میرے طریقے کو بدلیں گے ان کو اس حوض سے ہٹا دیا جائے گا۔ میں کہوں گا یہ میرے اصحاب ہیں تو مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ ﷺ کو نہیں معلوم کہ آپ کے بعد انھوں نے کیا کیا ہے۔ پھر میں ان کو دفع کروں گا اور کہوں گا کہ دور ہو۔ یہ مضمون بکثرت روایات میں بیان ہوا ہے۔ (بخاری۔ مسلم۔ مسند احمد۔ ابن ماجہ وغیرہ) ۔





