سورۃ الماعون
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یُکَذِّبُ بِالدِّیۡنِ ؕ﴿۱﴾}
[اَرَءَيْتَ الَّذِیۡ : کیا تو نے دیکھا اس کو جو][ يُكَذِّبُ: جھوٹ جانتا ہے][ بِالدِّيْنِ: بدلے (کے دن) کو]
نوٹ 1: اس سورہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ آخرت پر ایمان نہ لانا، انسان کے اندر کس قسم کے اخلاق پیدا کرتا ہے۔"
{فَذٰلِکَ الَّذِیۡ یَدُعُّ الۡیَتِیۡمَ ۙ﴿۲﴾}
[فَذٰلِكَ: تو وہ،][ الَّذِیۡ : وہ ہے جو][ يَدُعُّ الْيَتِيْمَ: دھکا دیتا ہے یتیم کو]
آیات۔2 اور 3۔ میں ان کفار کی حالت بیان کی گئی ہے جو اعلانیہ آخرت کو جھٹلاتے ہیں۔ اور آخری چار آیتوں میں ان منافقین کا حال بیان کیا گیا ہے جو بظاہر مسلمان ہیں مگر دل میں آخرت اور اس کی جزاوسزا کا کوئی تصور نہیں رکھتے۔ مجموعی طور پر دو گروہوں کے طرز عمل کو بیان کرنے سے مقصود یہ حقیقت ذہن نشین کرانا ہے کہ انسان کے اندر ایک مستحکم اور پاکیزہ کردار عقیدۂ آخرت کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔ (تفہیم القرآن)"
{وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ؕ﴿۳﴾}
[وَلَا يَحُضُّ: اور وہ ترغیب نہیں دیتا (کسی کو)][ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ: مسکین کا کھانا (دینے) پر]
نوٹ 2: آیت۔3۔ میں اگر اِطْعَامِ الْمِسْکِیْن کہا گیا ہوتا تو معنی یہ ہوتے کہ وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتا۔ لیکن طَعَامِ الْمِسْکِیْن کے معنی یہ ہیں کہ وہ مسکین کا کھانا اس کو دینے پر نہیں اکساتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو کھانا مسکین کو دیا جاتا ہے وہ دینے والے کا کھانا نہیں ہے بلکہ اسی مسکین کا کھانا ہے۔ یعنی دینے والا کوئی بخشش نہیں دے رہا ہے بلکہ مسکین کا حق ادا کر رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)"





