اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ قریش

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 

{لِاِیۡلٰفِ قُرَیۡشٍ ۙ﴿۱﴾}

[لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ: (ہم نے ہلاک کیا اصحاب فیل کو) قریش کو مانوس کرنے کے واسطے]

ترکیب: (آیت۔1) اِیْلَافٌ باب افعال کا مصدر ہے۔ اس پر حروف جارہ کا لِ داخل ہوا جس نے اس کو جَرّ دی ہے اور مضاف ہونے کی وجہ سے اس کی تنوین ختم ہوئی ہے۔ قُرَیْشٍ اس کا مضاف الیہ ہے۔ بات کا مرکب جاری سے شروع ہونا تقاضا کرتا ہے کہ اس سے پہلے کچھ محذوف مانا جائے۔ چنانچہ مفسرین کے ایک گروہ نے پچھلی سورت کے ساتھ معنوی تعلق کی بنا پر یہاں اِنَّا اَھْلَکْناھُمْ یا اِنَّا اَھْلَکْنَا اَصحٰبَ الْفِیْلِ کو محذوف مانا ہے۔ دوسرے گروہ نے اس کا تعلق اس جملہ سے مانا ہے جو آگے آ رہا ہے یعنی فَلْیَعْبُدْوْا ہم پہلی رائے کو ترجیح دیں گے۔

نوٹ 1: اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ معنی اور مضمون کے اعتبار سے یہ سورت سورۂ فیل ہی سے متعلق ہے اور شاید اسی وجہ سے بعض مصاحف میں ان دونوں کو ایک ہی سورت کی طور پر لکھا گیا تھا اور ان کے درمیان بسم اللہ نہیں لکھی گئی تھی مگر حضرت عثمانؓ  نے جب تمام مصاحف قرآن کو جمع کر کے ایک نسخہ تیار فرمایا اور تمام صحابہ کرامؓ    کا اس پر اجماع ہوا، تو اس میں ان دونوں کو الگ الگ سورتوں کے طور پر لکھا گیا اور دونوں کے درمیان بسم اللہ لکھی گئی۔ (معارف القرآن)

نوٹ 2: اس سورہ کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس تاریخی پس منظر کو نگاہ میں رکھا جائے جس سے اس سورہ کے مضمون اور سورۂ فیل کے مضمون کا گہرا تعلق ہے۔

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں