سورۃ العصر
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{وَ الۡعَصۡرِ ۙ﴿۱﴾}
[وَالْعَصْرِ: قسم ہے زمانے کی ]
نوٹ 1: العصر (زمانہ) کا لفظ گزرے ہوئے زمانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور گزرتے ہوئے زمانے کے لیے بھی جسے حال کہتے ہیں۔ گزرے ہوئے زمانے کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ انسانی تاریخ اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ جو لوگ بھی اِن صفات سے خالی تھے وہ بالآخر خسارے میں پڑ کر رہے۔ اور گزرتے ہوئے زمانے کی قسم کا مطلب سمجھنے کے لیے پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ جو زمانہ اب گزر رہا ہے یہ دراصل وہ وقت ہے جو ہر ایک شخص کو دنیا میں کام کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ اس کی مثال اس وقت کی سی ہے جو امتحان کے کمرے میں طالب علم کو پرچے حل کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ یہ وقت جس تیز رفتاری سے گزر رہا ہے اس کا اندازہ تھوڑی دیر کے لیے اپنی گھڑی میں سیکنڈ کی سوئی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھنے سے آپ کو ہو جائے گا۔ پس گزرتے ہوئے زمانے کی قسم کھا کر جو بات اس سورہ میں کہی گئی ہے کہ وہ یہ ہے کہ یہ تیز رفتار زمانہ شہادت دے رہا ہے کہ ان چار صفات سے خالی ہو کر انسان جن کاموں میں بھی اپنی مہلت عمر صرف کر رہا ہے وہ سب کے سب خسارے کے سودے ہیں۔ نفع میں صرف وہ لوگ ہیں جو ان چاروں صفات سے متصف ہو کر دنیا میں کام کریں۔ (تفہیم القرآن)"
{اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسۡرٍ ۙ﴿۲﴾}
[اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ: بیشک تمام انسان یقینا خسارے میں ہیں]
نوٹ 2: اس سورہ میں خسارے سے بچنے کے لیے جن چار صفات کا ذکر ہے وہ یہ ہیں ایمان۔ عملِ صالح۔ تواصی بالحق۔ تواصی بالصبر۔ ان میں ایمان اور عملِ صالح خود انسان کی ذات سے متعلق ہیں۔ ان کا معاملہ واضح ہے اور کسی تشریح کا محتاج نہیں، البتہ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر قابل غور ہیں۔ تواصی کا لفظ وصیت سے بنا ہے۔ کسی شخص کو تاکید کے ساتھ مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا نام وصیت ہے۔ اسی وجہ سے مرنے والا اپنے بعد کے لیے جو ہدایات دیتا ہے اس کو بھی وصیت کہا جاتا ہے۔ لفظ حق اور صبر کے معنی میں ایک احتمال یہ ہے کہ حق سے مراد صحیح عقائد اور اعمال صالحہ کا مجموعہ ہو اور صبر سے مراد تمام گناہوں اور برے کاموں سے بچنا ہو۔ ایسی صورت میں حق کا حاصل امر بالمعروف ہو گیا اور صبر کا حاصل نہی عن المنکر ہو گیا، یعنی وہ ایمان اور عمل صالح جس کو انسان نے خود اختیار کیا ہے اس کی تاکید اور نصیحت دوسروں کو کرنا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ حق سے مراد صحیح اعتقادات لیے جائیں اور صبر کے مفہوم میں تمام نیک اعمال کی پابندی اور برے کاموں سے بچنا شامل ہو۔ حافظ ابن تیمیہ کے ایک رسالے کی تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ تواصی بالحق سے مراد دوسرے مسلمانوں کی علمی اصلاح ہے اور تواصی بالصبر سے مراد عملی اصلاح ہے





