اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ القارعۃ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ     

{اَلۡقَارِعَۃُ ۙ﴿۱﴾} 

[اَلْقَارِعَةُ: کھٹکھٹانے والی]

نوٹ 1: قَارِعَۃٌ کا لفظی ترجمہ ہے ٹھونکنے والی۔ یہ لفظ ہولناک حادثہ اور بڑی بھاری آفت کے لیے بولا جاتا ہے۔ یہاں یہ لفظ قیامت کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور اِن آیات میں قیامت کے پہلے مرحلے سے لے کر عذاب وثواب کے آخری مرحلے تک کو یک جا کردیا گیا ہے۔ پہلی پانچ آیات میں قیامت کے پہلے مرحلے کا ذکر ہے جب وہ حادثۂ عظیم (اَلْقَارِعَۃُ) برپا ہو گا جس کے نتیجے میں دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ اس وقت لوگ گھبراہٹ کے عالم میں اس طرح بھاگے بھاگے پھریں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے ہر طرف پراگندہ ومنتشر ہوتے ہیں اور پہاڑ دھنکے ہوئے اُون کی طرح ہوں گے۔ پھر اگلی آیات میں اس مرحلے کا ذکر ہے جب دوبارہ زندہ ہو کر لوگ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوں گے۔ (تفہیم القرآن)"

{مَا الۡقَارِعَۃُ ۚ﴿۲﴾} 

[مَا الْقَارِعَةُ: کیا ہے کھٹکھٹانے والی]"

{وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡقَارِعَۃُ ؕ﴿۳﴾} 

[وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُ: اور تو نے کیا سمجھا کیا ہے کھٹکھٹانے والی]"

{یَوۡمَ یَکُوۡنُ النَّاسُ کَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ۙ﴿۴﴾} 

[يَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ: جس دن ہو جائیں گے لوگ][ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ: بکھیرے ہوئے پتنگوں کی مانند]

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں