سورۃ العادیات
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{وَ الۡعٰدِیٰتِ ضَبۡحًا ۙ﴿۱﴾}
[وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا: قسم ہے ہانپتے ہوئے تیز دوڑنے والوں (گھوڑوں) کی]
ض ب ح[ضَبْحًا: (ف) دوڑتے ہوئے سینے سے آواز نکالنا۔ ہانپنا۔ زیر مطالعہ آیت۔1۔]
ترکیب: عربی میں عام طور پر گھوڑوں کے لیے جمع مؤنث کے صیغے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان آیات میں جمع مؤنث کے صیغوں کا ترجمہ اردو محاورے کے مطابق جمع مذکر میں کیا جائے گا، (آیت۔1) ضَبْحًا حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
نوٹ 1: قرآن مجید جس چیز کی قسم کھا کر کوئی مضمون بیان فرماتا ہے تو اس چیز کو اس مضمون کے ثبوت میں دخل ہوتا ہے۔ یہاں جنگی گھوڑوں کی خدمات کا ذکر اس بات کی شہادت میں لایا گیا ہے کہ انسان بڑا ناشکرا ہے۔ تشریح اس کی یہ ہے کہ جنگی گھوڑے میدان جنگ میں انسان کے حکم اور اشارے کے تحت اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر کیسی کیسی سخت خدمات انجام دیتے ہیں۔ حالانکہ انسان نے ان گھوڑوں کو پیدا نہیں کیا۔ انسان ان کو جو گھاس، دانہ وغیرہ دیتا ہے وہ بھی اس کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے۔ اس کا کام صرف اتنا ہے کہ اللہ کے پیدا کیے ہوئے رزق کو ان تک پہنچانے کا ایک واسطہ بنتا ہے۔ اب گھوڑے کو دیکھیں کہ وہ انسان کے اتنے سے احسان کو کیسا پہچانتا اور مانتا ہے کہ اس کے ایک اشارے پر اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ اس کے بالمقابل انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ایک حقیر قطرے سے پیدا کیا، اس کو مختلف کاموں کی قوت بخشی، اس کے کھانے پینے کی ہر چیز پیدا فرمائی اور اس کی تمام ضروریات کو اس تک پہنچا دیا مگر وہ ان تمام احسانات کا شکر گزار بننے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ (معارف القرآن)





