اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ الزلزال

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 

{اِذَا زُلۡزِلَتِ الۡاَرۡضُ زِلۡزَالَہَا ۙ﴿۱﴾} 

[اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ: جب ہلایا جائے گا زمین کو][ زِلْزَالَهَا: جیسے اس کو ہلا مارنے کا حق ہے]

ترکیب: (آیت۔1 تا 3) بات اِذَا سے شروع ہو رہی ہے اس لیے ان آیات میں آے والے افعال ماضی کا ترجمہ مستقبل میں ہو گا۔

نوٹ 1: اس میں اختلاف ہے کہ یہاں جس زلزلہ کا ذکر ہے، یہ وہ زلزلہ ہے جو نفخۂِ اولٰی (پہلا صور پھونکے جانے) سے پہلے دنیا میں ہو گا، جیسا کہ علاماتِ قیامت میں ذکر آیا ہے۔ یا اس زلزلہ سے مراد وہ زلزلہ ہے جو دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد ہو گا جب مردے زندہ ہو کر اٹھیں گے۔ مفسرین کے اقوال مختلف ہیں لیکن آگے احوال قیامت اور حساب کتاب کا ذکر ہے، وہ قرینہ اسی کا ہے کہ یہ زلزلہ دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد کا ہے۔ (معارف القرآن) ۔

 اس وقت زمین جو کچھ اس کے پیٹ میں ہے مثلاً مردے یا سونا چاندی وغیرہ، سب کچھ باہر اگل ڈالے گی لیکن اس وقت مال کا کوئی لینے والا نہ ہو گا۔ (ترجمہ شیخ الہند ) ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ زمین اپنے جگر کے ٹکڑے بڑی چٹانوں کی صورت میں اُگل دے گی۔ اس وقت ایک شخص جس نے مال کے لیے کسی کو قتل کیا تھا وہ دیکھ کر کہے گا یہ وہ چیز ہے جس کے لیے میں نے اتنا بڑا جرم کیا تھا۔ جس شخص نے اپنے رشتہ داروں سے مال کی وجہ سے قطع تعلق کیا تھا وہ کہے گا یہ ہے وہ چیز جس کے لیے میں نے یہ حرکت کی تھی۔ چوری کی سزا میں جس چور کا ہاتھ کاٹا گیا تھا وہ کہے گا اس کے لیے میں نے اپنا ہاتھ گنوایا تھا۔ پھر کوئی بھی اس سونے کی طرف التفات نہ کرے گا۔ (معارف القرآن)"

{وَ اَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَہَا ۙ﴿۲﴾} 

[وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ: اور نکال ڈالے گی زمین][ اَثْقَالَهَا: اپنے سارے بوجھ]"

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں