سورۃ البینہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{لَمۡ یَکُنِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ مُنۡفَکِّیۡنَ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ۙ﴿۱﴾}
[لَمْ يَكُنِ الَّذِیۡنَ كَفَرُوْا: تھے ہی نہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا][ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ: مشرکین اور اہل کتاب میں سے][ مُنْفَكِّيْنَ: باز آنے والے (کفر سے)][ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ: جب تک کہ (نہ) پہنچے ان کے پاس][ الْبَيِّنَةُ: روشن دلیل]
ترکیب: (آیت۔1) لَمْ یَکُنْ میں کَانَ کا اسم اَلَّذِیْنَ سے اَلْمُشْرِکِیْنَ تک کا پورا فقرہ ہے اور مُنْفَکِّیْنَ اس کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ اَلْمُشْرِکِیْنَ سابقہ مِنْ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جَر میں ہے۔ (آیت۔2) رَسُولٌ کو اگر خبر مانیں تو اس سے پہلے اس کا مبتدا محذوف مانا جائے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو فاعل مانیں اور اس سے پہلے فعل فَقَدْ جَائَ یا فَقَدْ اَتٰی محذوف مانیں۔ دونوں صورتوں میں یہ پورا جملہ سابقہ اَلْبَیِّنَۃُ کی وضاحت ہے۔ ترجمہ میں ہم دوسری صورت کو ترجیح دیں گے کیونکہ ایسی صورت میں آگے فعل مضارع یَتْلُوْا کو رَسُوْلٌ کا حال ماننے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے، جو زیادہ حسب حال ہے۔ صُحْفًا مُّطَھَّرَۃً یہ پورا مرکب توصیفی نکرہ مخصوصہ ہے۔ اور آگے کا پورا جملہ اس کی خصوصیت ہے۔ (آیت۔3) کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ مبتدا مؤخر نکرہ ہے اس کی خبر موجودۃُ محذوف ہے اور فِیْھَا قائم مقام خبر مقدم ہے۔ اس میں ھَا کی ضمیر صُحُفًا مُّطَھَّرَۃٌ کے لیے ہے۔ (آیت۔5) لِیَعْبُدُوا پر لام کَی نہیں ہے۔ آیت میں سے مَا نا فیہ اور اِلاَّ کو نکال دیں تو عبارت یوں بنتی ہے۔ وَاُمِرُوْا لِیَعْبُدُوْا۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ اس پر لام کَی نہیں بلکہ لام امر ہے اور یَعْبُدُوْا منصوب نہیں بلکہ مجزوم ہے۔ ترجمہ اسی لحاظ سے کرنا ہو گا۔ مُخْلِصِیْنَ حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے اور یہ اسم الفاعل ہے۔ اس نے الدِّیْنَ کو نصب دی ہے۔ یُقِیْمُوْا اور یُؤْتُوْا سابقہ لِیَعْبُدُوْا کے لام امر پر عطف ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں۔ دِیْنُ الْقِیَمّۃِ مرکب اضافی ہے۔ اَلْقَیِّمَۃِ مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے دِیْنُ کی صفت نہیں ہو سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کا موصوف یہاں محذوف ہے جو اَلْمِلَّۃِ یا اَلرِّجَالِ ہو سکتا ہے۔
نوٹ 1: قرآن مجید کی ترتیب میں سورۃ البینہ کو سورۂ علق اور سورۂ قدر کے بعد رکھنا بہت معنی خیز ہے۔ سورۂ علق میں پہلی وحی درج کی گئی ہے۔ سورۂ قدر میں بتایا گیا ہے کہ وہ کب نازل ہوئی اور اس سورہ میں بتایا گیا ہے کہ اس کتاب کے ساتھ ایک رسول بھیجنا کیوں ضروری تھا۔





