سورۃ القدر
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ ۚ﴿ۖ۱﴾}
[اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ : یقینا ہم نے ہی اتارا اس (قرآن) کو][ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ: قدر کی رات میں]
نوٹ 1: قدر کے ایک معنی عظمت وشرف (قدروقیمت والا ہونا) کے ہیں۔ اور اس رات کو لیلۃ القدر کہنے کی وجہ اس رات کی عظمت ہے۔ قدر کے دوسرے معنی تقدیر کے بھی آتے ہیں۔ اس معنی کے اعتبار سے اس کو لیلۃ القدر کہنے کی وجہ یہ ہوگی کہ اس رات میں تمام مخلوقات کے لیے جو کچھ تقدیر میں لکھا ہے، اس کا جو حصہ اس سال رمضان سے اگلے رمضان تک پیش آنے والا ہے، وہ ان فرشتوں کے حوالے کردیا جاتا ہے جو کائنات کے امور نافذ کرنے کے لیے مامور ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ کا قول ہے کہ وہ فرشتے جن کو یہ امور سپرد کیے جاتے ہیں چار ہیں، حضرت اسرافیل ؑ، حضرت میکا ئیل ؑ، حضرت عزرائیل ؑ، حضرت جبریل ؑ۔
قرآن کریم کی تصریحات سے ثابت ہے کہ شب قدر ماہِ رمضان المبارک میں آتی ہے۔ مگر تاریخ کے تعین میں علماء کے مختلف اقوال ہیں صحیح یہ ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے مگر آخری عشرہ کی کوئی خاص تاریخ متعین نہیں بلکہ ان میں سے کسی بھی رات میں ہو سکتی ہے اور وہ ہر رمضان میں بدلتی بھی رہتی ہے۔ اور ان میں سے طاق راتوں میں زیادہ احتمال ہے۔ اس رات کی سب سے بڑی فضیلت تو وہی ہے جو اس سورت میں بیان ہوئی ہے کہ اس ایک رات کی عبادت ایک ہزار مہینوں یعنی 83 سال سے زائد کی عبادت سے بھی بہتر ہے۔ پھر بہتر ہونے کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ کتنی بہتر ہے دوگنی، چوگنی، دس گنی، سوگنی وغیرہ سب ہی احتمالات ہیں۔ (قیاس یہ کہتا ہے کہ حد مقرر نہ کرنے میں شاید یہ حکمت ہو کہ بندے بندے کی عبادت میں اخلاص کی وجہ سے فرق ہوتا ہے۔ اس کا لحاظ رکھنے کی خاطر حد کو کھلا چھوڑا گیا ہے۔ گویا فکر ہر کس بقدر ہمت اوست والی بات ہے۔ مرتب) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شب قدر میں عبادت کے لیے کھڑا رہا اس کے تمام پچھلے گناہ معاف ہو گئے۔ ایک اور حدیث میں فرمایا کہ شب قدر میں وہ تمام فرشتے جن کا مقام سدرۃ المنتہیٰ پر ہے، حضرت جبریل ؑ کے ساتھ دنیا میں اترتے ہیں اور کوئی مومن مرد یا عورت ایسی نہیں جس کو وہ سلام نہ کرتے ہوں بجز اس کے جو شراب پیتا ہو یا سور کا گوشت کھاتا ہو۔ شب قدر میں بعض حضرات کو خاص انوار کا مشاہدہ بھی ہوتا ہے، مگر اس رات کی برکات اور ثواب حاصل ہونے میں ایسے مشاہدات کا کچھ دخل نہیں ہے اس لیے اس کی فکر میں نہیں پڑنا چاہیے۔





