اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ العلق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ       

{اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾} 

[اِقْرَاْ: آپؐ پڑھیئے][ بِاسْمِ رَبِّکَ  الَّذِیۡ: اپنے اس رب کے نام کے ساتھ جس نے][ خَلَقَ: پیدا کیا (ہر چیز کو)]

نوٹ 1: علماء کی اکثریت کا اتفاق ہے کہ وحی کی ابتدا سورۃ علق کی ابتدائی پانچ آیات سے ہوئی ہے۔ بعض حضرات نے سورۂ مدثر کو اور بعض نے سورۂ فاتحہ کو پہلی سورت قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورۂ علق کی پانچ آیات نازل ہونے کے بعد نزولِ قرآن کچھ عرصہ تک موقوف رہا۔ اس کے بعد پھر اچانک حضرت جبرئیل علیہ السلام سامنے آئے اور سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ اس وقت بھی رسول اللہ ﷺ پر وہی کیفیت طاری ہوئی جو سورۂ علق کے نزول کے وقت پیش آئی تھی۔ اس لحاظ سے اس کو بعض حضرات نے پہلی سورت کہا ہے۔ اور سورۂ فاتحہ کو پہلی سورت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ مکمل سورت سب سے پہلے سورۂ فاتحہ ہی نازل ہوئی ہے، اس سے پہلے چند سورتوں کی متفرق آیات ہی کا نزول ہوا تھا۔

 ایک طویل حدیث میں وحی کی ابتدا کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ (اس حدیث کی تفصیلات تفاسیر میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ہم صرف اس کے اہم نکات درج کر رہے ہیں۔ مرتب) سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر وحی کا سلسلہ سچے خوابوں سے شروع ہوا۔ اس کے بعد آپ ﷺ میں خلوت میں عبادت کرنے کا داعیہ پیدا ہوا۔ یہ عبادت لوگوں سے الگ ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ خاص اور تفکر کی تھی۔ غارِ حرا میں خلوت گزینی کی مدت ایک ماہ ہے یعنی آپ ﷺ نے پورے ماہ رمضان اس میں قیام فرمایا۔ وہاں حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا اِقْرَاْ۔ جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ تو جبریل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو آغوش میں لے کر دبایا۔ اس طرح تین مرتبہ ہوا۔ پھر انھوں نے پانچ آیات پڑھیں۔ یہ آیتیں لے کر آپ ﷺ گھر واپس آئے۔ آپ ﷺ پر گھبراہٹ طاری تھی۔ جب آپ ﷺ کو آفاقہ ہوا تو آپ ﷺ نے بی بی خدیجہؓ   کو سارا واقعہ سنایا۔ وہ انھیں اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ انھوں نے سنتے ہی کہا یہ وہی فرشتہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتارا تھا۔ کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ ﷺ کی قوم آپ ﷺ کو وطن سے نکالے گی، کیونکہ جب بھی کوئی آدمی یہ دین حق لے کر آیا جو آپ ﷺ لائے ہیں تو اس کی قوم نے اس کو ستایا ہے۔ اس کے چند ہی روز بعد ورقہ بن نوفل کا انتقال ہو گیا۔ اس واقعہ کے بعد وحیِٔ قرآن کا سلسلہ رُک گیا۔ روایات میں وحی میں وقفہ کی مدت ڈھائی سے تین سال تک بیان کی گئی ہے۔ (معارف القرآن۔ ج 8۔ ص 781 تا 784 سے ماخوذ-

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں