اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ التین

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ  

{وَ التِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ ۙ﴿۱﴾} 

[وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ: قسم ہے انجیر کی اور قسم ہے زیتون کی]

نوٹ 1: پہلی آیت کی تفسیر میں ایک رائے یہ ہے کہ انجیر سے مراد یہی انجیر ہے جسے لوگ کھاتے ہیں اور زیتون سے مراد یہی زیتون ہے جس سے تیل نکالا جاتا ہے اس میں شک نہیں کہ ایک عام عربی دان ان الفاظ کو سُن کر یہی معنی لے گا۔ لیکن دو وجوہ ایسے ہیں جو یہ معنی لینے میں رکاوٹ ہیں۔ ایک یہ کہ آگے طور سینا اور شہر مکہ کی قسم کھائی گئی ہے اور دو پھلوں کے ساتھ دو مقامات کی قسم کھانے میں کوئی مناسبت نظر نہیں آتی۔ دوسرے ان چار چیزوں کی قسم کھا کر آگے جو مضمون بیان کیا گیا ہے اس پر طور سینا اور شہر مکہ تو دلالت کرتے ہیں لیکن یہ دو پھل اس پر دلالت نہیں کرتے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ تین سے مراد دمشق کا شہر ہے اور زیتون سے مراد بیت المقدس ہے۔ لیکن یہ الفاظ سُن کر یہ معنی ایک عام عرب کے ذہن میں نہیں آ سکتے کیونکہ اہل عرب میں یہ بات معروف نہیں تھی کہ تین اور زیتون ان مقامات کے نام ہیں۔

 البتہ یہ طریق اہل عرب میں رائج تھا کہ جو پھل کسی علاقے میں کثرت سے پیدا ہوتا ہو اس علاقے کو وہ بسااوقات اس پھل کے نام سے موسوم کر دیتے تھے۔ اس محاورے کے لحاظ سے تین اور زیتون کے الفاظ کا مطلب ان کی پیداوار کا علاقہ ہو سکتا ہے۔ اور وہ ملک شام اور ملک فلسطین کا علاقہ ہے کیونکہ اس زمانے میں یہی علاقہ ان کی پیداوار کے لیے مشہور تھا۔ (تفہیم القرآن) ۔

 اس طرح ان قسموں میں وہ تمام مقاماتِ مقدسہ شامل ہو گئے جہاں خاص خاص انبیاء علیہم السلام پیدا اور مبعوث ہوئے ملک شام عام انبیاء علیھم السلام کا وطن ہے۔ کوہ طور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حق تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کی جگہ ہے۔ جبکہ سینین یا سینا اس مقام کا نام ہے جہاں یہ پہاڑ واقع ہے۔ اور مکہ مکرمہ رسول اللہ ﷺ کا مسکن ہے۔ (معارف القرآن)

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں