سورۃ الضحیٰ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{وَ الضُّحٰی ۙ﴿۱﴾}
[وَالضُّحٰى: قسم ہے چاشت کے وقت کی]
نوٹ۔1: اس سورہ میں پہلے آفاق کے شواہد سے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جس طرح اس دنیا کی مادی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے دن کی حرارت وروشنی کی ضرورت ہے اور رات کی خنکی اور تاریکی کی بھی، اسی طرح انسانی فطرت کی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو تنگی اور آسانی، دکھ اور سکھ، رنج اور راحت، دونوں طرح کے حالات سے گزارا جائے۔ جو لوگ زندگی کی تربیت میں ان امتحانوں کا مقام سمجھتے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان کی اعلیٰ صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں اور جو لوگ ان امتحانوں کی حکمت سے ناواقف ہوتے ہیں یا اپنی کم ہمتی کی وجہ سے ان سے وہ فائدہ نہیں اٹھاتے جس کے لیے قدرت نے ان کو مقدر کیا ہے، وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند سے محروم کر لیتے ہیں۔ جو اس امتحان سے گزرے بغیر انسان کو حاصل نہیں ہوتا۔ اس اصولی حقیقت کو بیان کرنے کے بعد نبی ﷺ کو خطاب کر کے تسلی دی ہے کہ جس امتحان سے آپ گزر رہے ہیں وہ خدا کی طرف سے کسی عتاب کے سبب پیش نہیں آیا ہے بلکہ یہ اسی امتحان کا ایک حصہ ہے جو انسان کی روحانی و اخلاقی تربیت کے لیے ضروری ہے۔ (تدبر قرآن)
نوٹ۔2: روایات میں ہے کہ جبریل ؑ دیر تک رسول اللہ ﷺ کے پاس نہ آئے، یعنی وحی قرآنی بند رہی تو مشرکین کہنے لگے کہ محمد (ﷺ ) کو اس کے رب نے رخصت کر دیا۔ اس کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ لیکن میرا گمان یہ ہے کہ مخالفین نے اس وقت اس طرح کی باتیں کی ہوں جب سورۂ اِقرأ کی ابتدائی آیات نازل ہونے کے بعد ایک طویل مدت تک وحی رکی رہی اور حضورﷺ خود اس فترت (بندش) کے زمانے میں مضطرب رہے۔ یہاں تک کہ فرشتہ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یٰـاَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ کا خطاب سنایا۔ چنانچہ ابن کثیر نے ابن اسحاق وغیرہ سے جو الفاظ نقل کیے ہیں وہ اسی احتمال کی تائید کرتے ہیں۔ ممکن ہے اسی دوران وہ قصہ بھی پیش آیا ہو جو بعض احادیث میں بیان ہوا ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ بیماری کی وجہ سے دو تین رات نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی ’’ اے محمدؐ معلوم ہوتا ہے تیرے شیطان نے تجھ کو چھوڑ دیا ہے۔‘‘ (العیاذباللہ) ۔ غرض ان سب خرافات کا جواب اس سورہ میں دیا گیا ہے۔ (ترجمہ شیخ الہند )





