سورۃ اللیل
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{وَ الَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰی ۙ﴿۱﴾}
[وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى: قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے]"
{وَ النَّہَارِ اِذَا تَجَلّٰی ۙ﴿۲﴾}
[وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى : اور قسم ہے دن کی جب وہ خوب روشن ہوتا ہے]"
{وَ مَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَ الۡاُنۡثٰۤی ۙ﴿۳﴾}
[وَمَا: اور قسم ہے اس کی جو][ خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْانثٰٓى: اس نے پیدا کیے مذکر اور مؤنث]"
{اِنَّ سَعۡیَکُمۡ لَشَتّٰی ؕ﴿۴﴾}
[اِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتّٰى: بیشک تم لوگوں کی سعی و جہد متفرق ہے]
ترکیب: (آیت۔4) شَتّٰی۔ یہ مادہ ’’ ش ت ت‘‘ سے باب تفعیل کا ماضی کا صیغہ نہیں ہے کیونکہ اس پر اِنَّ کی خبر پر آنے والا لامِ تاکید لگا ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دراصل فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت شَتِیْتٌ کی جمع ہے، جیسے مَرِیْضٌ کی جمع مَرْضٰی ہے اس حوالے سے یہاں پر یہ بھی نوٹ کرلیں کہ فُعْلٰی کا وزن افعل تفضیل کی مؤنث کے لیے ہے۔ جبکہ فَعْلٰی جمع مکسر کے اوزان میں سے ایک وزن ہے۔"
{فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰی وَ اتَّقٰی ۙ﴿۵﴾}
[فَاَمَا مَنْ: پس وہ جو ہے جس نے][ اَعْطٰى وَاتَّقٰى: خوش دلی سے دیا اور پرہیزگار رہا]





