اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ الشمس

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

{وَ الشَّمۡسِ وَ ضُحٰہَا ۪ۙ﴿۱﴾} 

[وَالشَّمْسِ وَضُحٰىهَا: قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی]

نوٹ۔1: مضمون کے لحاظ سے یہ سورہ دو حصوں میں مشتمل ہے۔ پہلا حصہ سورہ کے آغاز سے آیت۔10۔ پر ختم ہوتا ہے۔ اور دوسرا حصہ آیت۔ 11۔ سے آخر تک چلتا ہے۔ پہلے حصے میں تین باتیں سمجھائی گئی ہیں۔ ایک یہ جس طرح چاند، سورج، رات ، دن اور زمین و آسمان ایک دوسرے سے مختلف اور نتائج میں متضاد ہیں اسی طرح سے نیکی اور بدی بھی ایک دوسرے سے مختلف اور نتائج میں متضاد ہیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کو جسم، حواس اور ذہن کی قوتیں دے کر ایک فطری الہام کے ذریعے اس کے لاشعور میں نیکی اور بدی کا فرق، ان کے مابین امتیاز اور ایک کے خیر اور دوسرے کے شر ہونے کا احساس اتار دیا ہے۔ تیسرے یہ کہ انسان کے مستقبل کا انحصار اس پر ہے کہ وہ اپنے نفس کے اچھے اور برے رجحانات میں سے کس کو ابھارتا اور کس کو دباتا ہے۔ دوسرے حصے میں قوم ثمود کی تاریخی مثال پیش کرتے ہوئے رسالت کی اہمیت سمجھائی گئی ہے۔ رسول دنیا میں اس لیے بھیجا جاتا ہے کہ بھلائی اور برائی کا جو الہامی علم اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھ دیا ہے، وہ بجائے خود انسان کی ہدایت کے لیے کافی نہیں ہے۔ کیونکہ اس الہامی علم کو پوری طرح نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی انسان خیروشر کے غلط فلسفے اور معیار تجویز کر کے گمراہ ہوتا رہا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام پر واضح اور صاف صاف وحی نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں کو کھول کر بتائیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نیکی کیا ہے اور بدی کیا ہے۔ (تفہیم القرآن)"

{وَ الۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىہَا ۪ۙ﴿۲﴾} 

[وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا: اور قسم ہے چاند کی جب وہ پیچھے پیچھے آتا ہے اس (سورج) کے]"

{وَ النَّہَارِ اِذَا جَلّٰىہَا ۪ۙ﴿۳﴾} 

[وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا: اور قسم ہے دن کی جب وہ خوب روشن کر دیتا ہے اس (سورج) کو]"

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں