اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ الفجر

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ    

{وَ الۡفَجۡرِ ۙ﴿۱﴾} 

[وَالْفَجْرِ: قسم ہے فجر کی]

نوٹ۔1: یہاں پانچ چیزوں کی قسم کھا کر اس مضمون کی تاکید کی گئی ہے جو آگے اِنَّ رَبَّکَ لَیا لْمِرْصَادِ میں بیان ہوا ہے، یعنی اس دنیا میں تم جو کچھ کر رہے ہو اس پر جزاء وسزا ہونا لازمی اور یقینی ہے۔ تمہارا رب تمھارے سب اعمال کی نگرانی میں ہے۔

 وہ پانچ چیزیں جن کی قسم کھائی ہے، ان میں پہلی چیز فجر یعنی صبح صادق ہے۔ ہو سکتا ہے اس سے مراد ہر روز کی صبح ہو، کیوں کہ وہ عالم میں ایک انقلاب عظیم لاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ حضرت علیؓ   ، ابن عباسؓ    اور ابن زبیر سے یہی معنی منقول ہے۔ بعض مفسرین نے ذی الحجہ کی دسویں تاریخ یعنی یوم النحر (خون بہانے کا دن) کی صبح کو اس کی مراد قرر دیا ہے۔ مجاہد   وعکرمہ کا یہی قول ہے۔ اور حضرت ابن عباسؓ    سے بھی ایک روایت میں یہ قول منقول ہے۔ اس یوم النحر کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دن کے ساتھ ایک رات لگائی ہے جو اسلامی اصول کے مطابق دن سے پہلے ہوتی ہے۔ صرف یوم النحر ایک ایسا دن ہے کہ اس کے ساتھ کوئی رات نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یوم النحر سے پہلے جو رات ہے وہ یوم النحر کی نہیں بلکہ شرعاً یوم العرفہ ہی کی رات قرار دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی حج کرنے والا عرفہ کے دن میدان عرفات میں نہ پہنچ سکا لیکن رات کو صبح صادق سے پہلے کسی وقت بھی عرفات میں پہنچ گیا تو اس کا وقوف معتبر اور حج صحیح ہو جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ روز عرفہ کی دو راتیں ہیں اور یوم النحرکی کوئی رات نہیں۔ اس طرح یوم النحر کی صبح ایک خاص شان رکھتی ہے۔

 دوسری قسم دس راتوں کی ہے۔ حضرت ابن عباسؓ  ، قتادہ  ؓ، مجاہد ، سُدّی ، ضحاک، کلیبی، ائمۂ تفسیر کے نزدیک ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں اس سے مراد ہیں۔ کیونکہ حدیث میں ان کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ حضرت ابن عباسؓ    نے فرمایا کہ یہ دس راتیں وہ ہی ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے میں آئی ہیں۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے بھی یہی دس راتیں ذی الحجہ کی مقرر کی گئی تھیں۔

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں