سورۃ الغاشیۃ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡغَاشِیَۃِ ؕ﴿۱﴾}
[هَلْ اَتٰىكَ: کیا پہنچی آپؐ کے پاس][ حَدِيْثُ الْغَاشِـيَةِ : اس چھا جانے والی (قیامت) کی بات]
نوٹ۔1: پہلی آیت میں سوال ہے کیا آپؐ کو پہنچی۔ اس انداز میں جو سوال ہوتا ہے وہ جواب طلب کرنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ کسی چیز ہیبت یا اس کی عظمت کے اظہار کے لیے ہوتا ہے۔ آگے وُجُوْہٌ سے مراد اگرچہ افراد ہیں لیکن ان کو تعبیر وُجُوْہٌ سے اس لیے کیا ہے کہ ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ اور کیفیات کا اظہار سب سے زیادہ نمایاں طریقہ پر چہروں ہی سے ہوتا ہے۔ (تدبر قرآن)"
{وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ ۙ﴿۲﴾}
[وُجوهٌ يَّوْمَىِٕذٍ: کچھ چہرے (کچھ لوگ) اس دن][ خَاشِعَة: عاجزی کرنے والے ہیں]
ترکیب: (آیت۔ 2۔3 ) ۔ وُجُوْہٌ حالانکہ نکرہ ہے لیکن یہاں یہ مبتدا ہے۔ مفہوم کی ادائیگی کے تقاضے کے تحت اس کو معرفہ کے بجائے نکرہ لایا گیا ہے۔ خَاشِعَۃٌ اس کی خبر ہے۔ آگے عَامِلَۃٌ اور نَاصِبَۃٌ کو بھی اگر اس کی خبر مانیں تو مفہوم بنتا ہے کہ کچھ چہرے اس دن عاجزی کرنے والے ہیں، عمل کرنے والے ہیں، محنت کرنے والے ہیں یہ مفہوم خلاف واقعہ ہے۔ اور اگر عَامِلَۃٌ اور ناصِبَۃٌ کو وُجُوْہٌ کی صفت مانیں تو پھر مفہوم بنتا ہے کہ کچھ عمل کرنے والے محنت کرنے والے چہرے اس دن عاجزی کرنے والے ہیں۔ اور یہی مفہوم حضرت عمر ؓ سے مفقول ہے (دیکھیں معارف القرآن) ۔
نوٹ۔2: آیت۔2۔3۔ میں کافروں کے چہرے کا ایک حال یہ بتایا ہے کہ وہ خاشعہ ہوں گے۔ خشوع کے معنے جھکنے اور ذلیل ہونے کے ہیں۔ نماز میں خشوع کا یہی مطلب ہے کہ اللہ کے سامنے جھکے اور ذلت وپستی کے آثار اپنے وجود پر طاری کرے۔ جن لوگوں نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے سامنے خشوع اختیار نہیں کیا، ان کو اس کی سزا قیامت میں یہ ملے گی کہ وہاں ان کے چہروں پر ذلت اور رسوائی چھائی ہوئی ہو گی۔ ان کے چہروں کا دوسرا اور تیسرا حال یہ بیان فرمایا کہ عاملہ اور ناصبہ ہوں گے کفار ومجرمین کا یہ حال کہ وہ عمل اور محنت سے تھکے اور درماندہ ہوں گے، ظاہر ہے کہ ان کی دنیا کا ہے۔





