سورۃ الاعلی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ﴿۱﴾}
[سَبِّحِ : آپؐ تسبیح کریں][ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَى : اپنے اعلیٰ رب کے نام کی]
ترکیب: (آیت۔1) الْاَعْلٰی پر رفع، نصب، جر ظاہر نہیں ہوتی۔ اس لئے گرامر کے لحاظ سے یہ ممکن ہے کہ اس کو حالت نصب میں مانا جائے تو یہ اِسْمَ کی صفت ہو گا اور اگر حالت جر میں مانیں تو یہ رَبِّ کی صفت ہو گا۔ لیکن مضمون کے لحاظ سے مناسب یہی ہے کہ اس کو رَبِّ کی صفت مانا جائے۔
نوٹ۔1: لفظ تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو ان تمام باتوں سے پاک اور برتر قرار دینا جو اس کی اعلیٰ شان کے منافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا صحیح تصور ہی تمام علم ومعرفت اور قوت واعتماد کا سرچشمہ ہے۔ اگر اس میں کوئی خلل پید اہو جائے تو انسان صحیح معرفت کی شاہراہ سے ہٹ جاتا ہے۔ اور شیطان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ تسبیح کی سب سے اعلیٰ شکل تو نماز ہے لیکن جس طرح سانس انسان کی مادی زندگی کے لیے ہر وقت ضروری ہے اسی طرح سے اللہ تعالیٰ کی یاد اس کی روحانی زندگی کے لیے ہر وقت ضروری ہے۔ اس لیے صرف نماز کے اوقات ہی میں نہیں بلکہ زندگی کی دوسری سرگرمیوں کے اندر بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے دل کو آباد رکھنا چاہیے تاکہ شیطان کو اس پر غلبہ پانے کا موقع نہ ملے (تدبیر قرآن)"
{الَّذِیۡ خَلَقَ فَسَوّٰی ۪ۙ﴿۲﴾}
[الَّذِیۡ خَلَقَ فَسَوّٰى: وہ، جس نے پیدا کیا پھر اس نے نوک پلک درست کی (اس کی)]
(آیت۔2۔3) خَلَقَ۔ سَوّٰی۔ قَدَّرَ۔ ھٰدٰی۔ اِن افعال کے مفعول محذوف ہیں۔ اس لیے مفہوم میں وسعت پیدا ہوئی اور یہاں ساری مخلوق مراد ہے، جس میں فرشتے، جن واِنس، حیوانات، نباتات، جمادات وغیرہ سب شامل ہو گئے۔ (حافظ احمد یار صاحب)





