سورۃ البروج
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الۡبُرُوۡجِ ۙ﴿۱﴾}
[وَالسَّمَآءِ : قسم ہے آسمان کی][ذَاتِ الْبُرُوْج: جو (سیاروں کی) منزلوں والا ہے]
نوٹ 1: اس آیت۔1۔ میں بروج سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک بڑے بڑے ستارے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا یہی قول ہے۔ بعض مفسرین نے بروج سے مراد قصور یعنی محلات لیے ہیں اور اس سے مراد وہ مقامات ہیں جو آسمان میں پہرے داروں اور نگراں فرشتوں کے لیے مقرر ہیں۔ بعض متاخرین (بعد میں آنے والے) نے اس سے مراد وہ بروج بتلائے ہیں جو فلاسفہ کی اصطلاح ہے، جس میں کل آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کر کے ہر حصہ کو ایک برج کہا جاتا ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ ثابت ستارے انہی برجوں میں اپنی اپنی جگہ مقیم ہیں۔ اور سیارے حرکت فلک کے ساتھ متحرک ہوتے ہیں۔ اور ان برجوں میں سیاروں کا نزول ہوتا ہے۔ مگر یہ سراسر غلط ہے۔ قرآن کریم سیاروں کو آسمانوں میں مرکوز نہیں قرار دیتا بلکہ سیارے کو اپنی ذاتی حرکت سے متحرک قرار دیتا ہے۔ جیسا کہ سورۂ یٰسین میں ہے وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ (اور وہ سب کے سب فلک میں تیرتے ہیں) فلک سے مراد یہاں آسمان نہیں بلکہ سیارے کا مدار ہے جس میں وہ حرکت کرتا ہے۔ (معارف القرآن)"
{وَ الۡیَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِ ۙ﴿۲﴾}
[وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ: اور قسم ہے وعدہ کیے ہوئے دن کی]"
{وَ شَاہِدٍ وَّ مَشۡہُوۡدٍ ؕ﴿۳﴾}
[وَشَاهِدٍ: اور قسم ہے حاضر ہونے والے کی] [ وَّمَشْهُوْدٍ : اور قسم ہے معائنہ کیے جانے والے کی]"





