اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ الانشقاق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

{اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ ۙ﴿۱﴾} 

[اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ : جب آسمان پھٹ جائے گا]"

{وَ اَذِنَتۡ لِرَبِّہَا وَ حُقَّتۡ ۙ﴿۲﴾} 

[وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا: اور وہ کان دھرے گا اپنے رب (کے حکم) کے لیے][ وَحُقَّتْ: اس حال میں کہ وہ اس لائق کیا گیا]"

{وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ ۙ﴿۳﴾} 

[وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ: اور جب زمین دراز کی جائے گی]

نوٹ۔1: زمین کے پھیلا دئیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ سمندر اور دریا پاٹ دئیے جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دئیے جائیں گے اور زمین کی ساری اونچ نیچ برابر کر کے اسے ایک ہموار میدان بنا دیا جائے گا۔ سورہ طٰہٰ میں اس کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ایک چٹیل میدان بنا دے گا جس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ پائو گے۔ (آیات۔ 106۔ 107) ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ زمین ایک دسترخوان کی طرح پھیلا کر بچھا دی جائے گی۔ پھر انسان کے لیے اس پر صرف قدم رکھنے کی جگہ ہو گی۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اس دن تمام انسانوں کو جو روز آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہوں گے، بیک وقت زندہ کر کے عدالت الٰہی میں پیش کیا جائے گا۔ اتنی بڑی آبادی کو جمع کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ سمندر، دریا، پہاڑ، جنگل، گھاٹیاں اور پست وبلند علاقے سب کے سب ہموار کر کے کرۂ زمین کو ایک میدان بنا دیا جائے تاکہ اس پر ساری نوع انسانی کے افراد کھڑے ہونے کی جگہ پا سکیں۔ (تفہیم القرآن)"

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں