اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ المطففین

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 

{وَیۡلٌ لِّلۡمُطَفِّفِیۡنَ ۙ﴿۱﴾} 

[وَيْلٌ لِّلۡمُطَفِّفِیۡنَ ؛تباہی ہے کمی کرنے والوں کے لیے]

ط ف ف[طَفَّا: (ض) ہاتھ یا پائوں سے کسی چیز کو اٹھانا۔]

(تفعیل) تَطْفِیفًا کسی چیز میں ذرا سی کمی کرنا۔ پیمانہ کو تھوڑا سا کم بھرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔1۔]

نوٹ۔1: اس سورت کے انداز بیان اور مضامین سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے جب اہل مکہ کے ذہن میں آخرت کا عقیدہ بٹھانے کے لیے پے در پے سورتیں نازل ہو رہی تھیں۔ بعض مفسرین نے اس کو مدنی قرار دیا ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ دراصل ابن عباسؓ    کی یہ روایت ہے کہ جب نبی ﷺ مدینے تشریف لائے تو یہاں کے لوگوں میں کم ناپنے اور تولنے کا مرض پھیلا ہوا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سورہ نازل کی اور لوگ بہت اچھی طرح ناپنے تولنے لگے۔ لیکن جیسا کہ اس سے پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ صحابہ کرامؓ   اور تابعین کا یہ عام طریقہ تھا کہ ایک آیت جس معاملہ پر چسپاں ہوتی ہو اس کے متعلق وہ یوں کہا کرتے تھے کہ یہ فلاں معاملہ میں نازل ہوئی۔ اس لیے ابن عباسؓ    کی روایت سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جب ہجرت کے بعد نبی ﷺ نے مدینہ کے لوگوں میں یہ بری عادت پھیلی ہوئی پائی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ ﷺ نے یہ سورت ان کو سنائی اور اس سے ان کے معاملات درست ہو گئے۔ (تفہیم القرآن۔ ج 6۔ ص 278)

نوٹ۔2: مُطَفِّفِیْن کا لفظ تَطْفِیْف سے مشتق ہے۔ عربی میں طَفِیْف چھوٹی اور حقیر چیز کے لیے بولتے ہیں اور تطفیف کا لفظ اصطلاحاً ناپ تول میں چوری چھپے کمی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ کام کرنے والا ناپ کر یا تول کر چیز دیتے ہوئے کوئی بڑی مقدار نہیں اڑاتا بلکہ ہاتھ کی صفائی دکھا کر ہر خریدار کے حصے سے تھوڑا تھوڑا اڑاتا رہتا ہے۔ (تفہیم القرآن)

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں