سورة التكوير
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{اِذَا الشَّمۡسُ کُوِّرَتۡ ۪ۙ﴿۱﴾}
[اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ: جب سورج لپیٹ دیا جائے گا]
ترکیب: آیات۔ 1 تا 13۔ میں تمام جملے اِذَا سے شروع ہو رہے ہیں اس لیے ان میں افعال ماضی کا ترجمہ مستقبل میں ہو گا اور اِذَا کی وجہ سے یہ تمام جملے شرط ہیں، جبکہ آیت۔14۔ میں عَلِمَتْ نَفْسٌ جواب شرط ہے اس لیے عَلِمَتْ (ماضی) کا ترجمہ بھی مستقبل میں ہو گا۔ (آیت۔7) نُفُوْسٌ جمع ہے نَفَسٌ کی جس کے معنی ہیں، ’’ سانس۔‘‘ زندگی کا مدار سانس پر ہے اس لیے یہ جان کے لیے بھی آتا ہے اور جان والے یعنی شخص کے لیے بھی آتا ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کے دو طرح ترجمے کیے گئے ہیں۔ اول یہ کہ جانوں کو ان کے جسموں کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا۔ دوم یہ کہ ہم خیال اور ایک جیسے عمل کرنے والے اشخاص کو ایک ساتھ جوڑ دیا جائے گا۔ ترجمہ میں ہم پہلی رائے کو ترجیح دیں گے۔ کیونکہ نَفَسٌ سے اگر جان مراد ہو تو یہ لفظ مؤنث اور اگر شخص مراد ہو تو یہ مذکر استعمال ہوتا ہے۔ اور یہاں زُوِّجَتْ مؤنث کا صیغہ آیا ہے اس لیے پہلی رائے کو ترجیح دی گئی ہے۔
نوٹ۔1: پچھلی دونوں سورتوں، النّٰزعت اور عَبس میں جس حولِ قیامت سے ڈرایا گیا ہے، اس سورہ میں اسی حول قیامت کی پوری تصویر ہے۔ (تدبر قرآن) ۔ پہلی آیت میں کُوِّرَتْ کا لفظ سورج کو بےنور کر دئیے جانے کے لیے ایک بےنظیر استعارہ ہے۔ عربی زبان میں تَکْوِیْر کے معنی لپیٹنے کے ہیں ۔ سر پر عمامہ (صافہ) باندھنے کے لیے تکویر العمامہ کے الفاظ بولے جاتے ہیں۔ کیونکہ عمامہ پھیلا ہوا ہوتا ہے اور پھر سرکے گرد اسے لپیٹا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے اس روشنی کو جو سورج سے نکل کرسارے عالم میں پھیلی ہوئی ہے، عمامہ سے تشبیہ دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کے روز یہ پھیلا ہوا عمامہ سورج پر لپیٹ دیا جائے گا یعنی اس کی روشنی کا پھیلنا بند ہو جائے گا۔ (تفہیم القرآن) ۔ ظاہر ہے کہ جب سورج کی بساط ہی لپیٹ دی جائے گی تو سارا عالم تاریک ہو جائے گا۔ اگرچہ سورج کے چھپنے کا مشاہدہ ہمیں آج بھی ہر روز ہوتا رہتا ہے لیکن اس کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ یہ صورت صرف اس وجہ سے پیش آتی ہے کہ ہم اس سے اُوٹ میں ہو جاتے ہیں۔ البتہ جب قیامت برپا ہوگی تو سورج کا سار نظام ہی درہم برہم ہو جائے گا۔ کون اندازہ کرسکتا ہے اس تاریکی کا جب کہ سرے سے سورج ہی تاریک ہو جائے گا۔ (تدبر قرآن)"





