اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

{ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقۡبَرَہٗ ﴿ۙ۲۱﴾} 

[ثُمَّ اَمَاتَهٗ: پھر اس نے موت دی اس کو][ فَاَقْبَرَهٗ: تو اس نے دفن کرایا اس کو]"

{ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَہٗ ﴿ؕ۲۲﴾} 

[ثُمَّ اِذَا شَآءَ: پھر جب وہ چاہے گا][ اَنۡشَرَہٗ : تو وہ دوبارہ زندہ کرے گا اس کو]"

{کَلَّا لَمَّا یَقۡضِ مَاۤ اَمَرَہٗ ﴿ؕ۲۳﴾} 

[كَلَّا: ہرگز نہیں][ لَمَّا يَقْضِ : ابھی تک اس نے پورا نہیں کیا][ مَآ: اس کو][ اَمَرَهٗ: جس کا اس نے حکم دیا اسے]"

{فَلۡیَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖۤ ﴿ۙ۲۴﴾} 

[فَلْيَنْظُرِ الۡاِنۡسَانُ : پس چاہیے کہ دیکھے انسان][ اِلٰى طَعَامِهٖٓ : اپنے کھانے کی طرف]

نوٹ۔1: انسان اپنی غذا کے مسئلہ پر ذرا غور کی نگاہ ڈالے جس پر اس کی زندگی کا انحصار ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرتا ہے، پھر ضروریات کی نوعیت کے لحاظ سے کتنی گوناگوں شکلوں میں اس کو پھیلا دیتا ہے۔ اگر وہ اس پر غور کرے گا اور اس کی عقل میں فتور نہیں ہے تو نہایت آسانی سے یہ نکتہ اس کی سمجھ میں آ جائے گا کہ ربوبیت کا یہ وسیع نظام تقاضہ کرتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے آگے جوابدہ ہو اور اس سے پوچھا جائے کہ ان نعمتوں کا حق ادا کیا یا نہیں۔ (تدبر قرآن)"

{اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا ﴿ۙ۲۵﴾} 

[اَنَّا صَبَبْنَا الۡمَآءَ صَبًّا: بیشک ہم نے ہی برسایا پانی جیسے برساتے ہیں]"

{ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا ﴿ۙ۲۶﴾} 

[ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا: پھر ہم نے پھاڑا، زمین کو جیسے پھاڑتے ہیں]

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں