اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ عبس

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ  

{عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی ۙ﴿۱﴾} 

[عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی: انھوںؐ نے تیوری چڑھائی اور منہ موڑا]

نوٹ۔1: عَبْسَ کا فاعل یہاں مذکور نہیں ہے لیکن آگے کی آیات سے واضح ہو جاتا ہے کہ فاعل نبی ﷺ ہیں۔ اَعْمٰی سے اشارہ یہاں عبداللہ بن ام مکتوم ؓ  کی طرف ہے۔ یہ ایک نابینا صحابی تھے۔ ایک دن نبی ﷺ قریش کے لیڈروں سے باتیں کر رہے تھے۔ آپؐ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تھا۔ اسی اثنا میں عبداللہ بن ام مکتومؓ   تشریف لائے اور موقع کی نزاکت کا اندازہ نہ کرسکنے کے باعث وہ بھی مجلس میں پہنچ گئے۔ ان کا یہ بےموقع آ جانا حضور ﷺ  کو ناگوار گزرا۔ اسی واقعہ کو جو اتفاق سے پیش آ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو یہ تعلیم دینے کا ذریعہ بنا لیا کہ آپ ؐ اپنی توجہ کا اصل مرکز ان صحابہؓ   کو بنائیں جو اپنی اصلاح اور تربیت کی طلب میں آپﷺ کی مجلس میں آتے ہیں اور ان لوگوں کے درپے زیادہ نہ ہوں جو بےنیاز ہیں۔ (تدبر قرآن)

 اس موقع میں یہ تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے دوکام بیک وقت آ گئے تھے۔ ایک مسلمان کی تعلیم اور اس کی دلجوئی اور دوسرے غیر مسلموں کی ہدایت کے لیے ان کی طرف توجہ۔ قرآن کریم کے اس ارشاد نے یہ واضح کردیا کہ پہلا کام دوسرے کام پر مقدم ہے۔ دوسرے کام کی وجہ سے پہلے کام میں تاخیر کرنا یا خلل ڈالنا درست نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی تعلیم اور ان کی اصلاح کی فکر، غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرنے کی فکر سے اہم اور مقدم ہے۔ اس میں ایسے علماء کے لیے ایک اہم ہدایت ہے جو غیر مسلموں کو اسلام سے مانوس کرنے کی خاطر بعض ایسے کام کر بیٹھتے ہیں جن سے عام مسلمانوں کے دلوں میں شکوک وشبہات یا شکایات پیدا ہو جاتی ہیں۔ ان کو اس قرآنی ہدایت کے مطابق مسلمانوں کی اصلاح کو مقدم رکھنا چاہیے۔ (معارف القرآن)"

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں