{فَکَذَّبَ وَ عَصٰی ﴿۫ۖ۲۱﴾}
[فَكَذَّبَ وَعَصٰى: پس اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی]"
{ثُمَّ اَدۡبَرَ یَسۡعٰی ﴿۫ۖ۲۲﴾}
[ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى: پھر اس نے پیٹھ پھیری بھاگ دوڑ کرتے ہوئے]"
{فَحَشَرَ فَنَادٰی ﴿۫ۖ۲۳﴾}
[فَحَشَرَ فَنَادٰى: پھر اس نے اکٹھا کیا (سب کو) تو آواز دی]"
{فَقَالَ اَنَا رَبُّکُمُ الۡاَعۡلٰی ﴿۫ۖ۲۴﴾}
[فَقَالَ: پھر اس نے کہا][ اَنَارَبُّكُمُ الْاَعْلٰى: میں تم لوگوں کا سب سے برتر پرورش کرنے والا ہوں]
نوٹ۔4: فرعون کا رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے، مثلاً الشعرائ۔29۔ القصص۔ 38۔ لیکن ان باتوں سے فرعون کا یہ مطلب نہ تھا، اور نہ ہی ہو سکتا تھا، کہ وہی کائنات کا خالق ہے۔ یہ مطلب بھی نہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا منکر اور خود رب العالمین ہونے کا مدعی تھا۔ یہ مطلب بھی نہ تھا کہ وہ صرف اپنے آپ ہی کو مذہبی معنوں میں لوگوں کا معبود قرار دیتا تھا۔ قرآن مجید ہی میں اس بات کی شہادت موجود ہے کہ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے، وہ خود دوسرے معبودوں کی پرستش کرتا تھا۔ چنانچہ اس کے اہل دربار نے ایک موقع پر اس کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو یہ آزادی دیتے چلے جائیں گے کہ وہ ملک میں فساد پھیلائیں اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ الاعراف۔ 127۔ پس درحقیقت وہ مذہبی معنی میں نہیں بلکہ سیاسی معنی میں اپنے آپ کو الٰہ اور رب اعلیٰ کہتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اقتدار اعلیٰ کا مالک میں ہوں، میرے سوا کسی کو میری مملکت میں حکم چلانے کا حق نہیں ہے اور میرے اوپر کوئی بالاتر طاقت نہیں ہے جس کافرمان یہاں جاری ہو سکتا ہو۔ (تفہیم القرآن)"
{فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الۡاٰخِرَۃِ وَ الۡاُوۡلٰی ﴿ؕ۲۵﴾}
[فَاَخَذَهُ اللّٰهُ: تو پکڑا اس کو اللہ نے][ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى: دنیا اور آخرت کی عبرتناک سزا میں]"





