اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ النزعٰات

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ  

{وَ النّٰزِعٰتِ غَرۡقًا ۙ﴿۱﴾} 

[وَالنّٰزِعٰتِ: قسم ہے کھینچ نکالنے والیوں کی][ غَرْقًا: ڈوب کر]

نوٹ۔1: یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن آگے کا مضمون اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور تمام مرے ہوئے انسان دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ اس کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ پانچ اوصاف کِن ہستیوں کے ہیں۔ لیکن صحابہ اکرام ؓ اور تابعین کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں۔

 اب سوال یہ ہے کہ وقوعِ قیامت اور حیات بعد الموت پر فرشتوں کی قسم کیوں کھائی گئی، جبکہ یہ خود بھی اسی طرح غیر محسوس ہیں جس طرح وہ چیز غیر محسوس ہے جس کے واقع ہونے پر ان کو بطور گواہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب فرشتوں کے وجود کے منکر نہ تھے۔ وہ تسلیم کرتے تھے کہ انسان کی جان فرشتے ہی نکالتے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ فرشتوں کی حرکت انتہائی تیز ہے۔ اور ہر حکم بلاتاخیر بجا لاتے ہیں۔ وہ یہ بھی ماتے تھے کہ فرشتے کائنات کا انتظام اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے چلاتے ہیں، اپنی مرضی کے مالک نہیں ہیں۔ اس لیے یہاں پر استدلال اس بنا پر کیا گیا ہے کہ جب خدا کے حکم سے فرشتے تمہاری جان نکالتے ہیں تو اسی کے حکم سے وہ دوبارہ جان ڈال بھی سکتے ہیں۔ جب خدا کے حکم سے وہ کائنات کا انتظام چلا رہے ہیں تو اسی کے حکم سے وہ اس کائنات کو درہم برہم کر کے ایک دوسری دنیا بھی بنا سکتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)

نوٹ۔2: اس جگہ فرشتوں کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں جن کا تعلق انسان کی موت اور روح قبض کرنے سے ہے۔ مقصد تو قیامت کا حق ہونا بیان کرنا ہے لیکن شروع انسان کی موت سے کیا گیا کہ ہر انسان کی موت اس کے لیے ایک جزوی قیامت ہے۔ پہلی صفت اَلنّٰزِعٰتِ غَرْقًا ہے، یعنی سختی سے کھینچ کر نکالنے والے۔ اس سے مراد وہ عذاب کے فرشتے ہیں جو کافر کی روح نکالتے ہیں۔ دوسری صفت وَالنّٰشِطٰتِ ہے۔ یہ نَشَطَ سے مشتق ہے جس کے معنے بندھن کھول دینے کے ہیں۔ جس چیز میں پانی یا ہوا وغیرہ بھری ہو اس کا بندھن کھول دینے سے وہ چیز آسانی کے ساتھ نکل جاتی ہے۔ اس میں مومن کی روح نکلنے کے لیے تشبیہ ہے کہ جو فرشتے مومن کی روح قبض کرنے پر مقرر ہیں وہ آسانی سے اس کو قبض کرتے ہیں۔ اصل وجہ یہ ہے کہ کافر کو وقت نزع ہی برزخ کا عذاب سامنے آ جاتا ہے۔ اس سے گھبرا کر اس کی روح بدن میں چھپنا چاہتی ہے تو فرشتے اسے کھینچ کر نکالتے ہیں۔ جبکہ مومن کی روح کے سامنے عالم برزخ کی نعمتیں آتی ہیں تو اس کی روح ان کی طرف جانا چاہتی ہے۔ (معارف لقرآن)"

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں