{اَحۡیَآءً وَّ اَمۡوَاتًا ﴿ۙ۲۶﴾}
[اَحۡیَآءً : زندوں کو (اپنی پیٹھ پر)] [وَّاَمْوَاتًا: اور مردوں کو (اپنے پیٹ میں)]"
{وَّ جَعَلۡنَا فِیۡہَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسۡقَیۡنٰکُمۡ مَّآءً فُرَاتًا ﴿ؕ۲۷﴾}
[وَّجَعَلْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ شٰمِخٰتٍ: اور ہم نے بنائے اس میں اونچے پہاڑ] [وَّاَسْقَيْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًا: اور ہم نے پینے کے لیے دیا تم کو شیریں پانی]
ش م خ[شَمْخًا: (ف) ] بلند ہونا۔
شَامِخَۃٌ :اسم الفاعل کے وزن پر صفت ہے۔ بلند ہونے والی یعنی بلند۔ زیر مطالعہ آیت۔27۔"
{وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۲۸﴾}
[وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ : تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے]"
{اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰی مَا کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿ۚ۲۹﴾}
[اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى مَا: تم لوگ چلو اس کی طرف] [کُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ: تم لوگ جس کو جھٹلایا کرتے تھے جس کو]"
{اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰی ظِلٍّ ذِیۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ ﴿ۙ۳۰﴾}
[اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ: تم لوگ چلو ایک ایسے سائے کی طرف جو] [ذِيْ ثَلٰثِ شُعَبٍ: تین شاخوں والا ہے]"
{لَّا ظَلِیۡلٍ وَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ اللَّہَبِ ﴿ؕ۳۱﴾}
[لَّا ظَلِيْلٍ: جو نہ گھنی چھائوں ہے] [وَّلَا يُغْنِيْ: اور جو فائدہ نہیں پہنچائے گا] [مِنَ اللَّهَبِ: آگ کی لپٹ سے]





