اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ المرسلات

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ  

{وَ الۡمُرۡسَلٰتِ عُرۡفًا ۙ﴿۱﴾} 

[وَالْمُرْسَلٰتِ: قسم ہے بھیجی جانے والیوں (ہوائوں) کی] [عُرْفًا: بھلائی ہوتے ہوئے]

نوٹ 1: اس سورت میں حق تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسمیں کھا کر قیامت کے یقینی طور پر آنے کا ذکر فرمایا ہے۔ ان چیزوں کا نام بیان کرنے کے بجائے ان کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ مرسلات۔ عاصفات۔ ناشرات۔ فارقات اور ملقیت الذکر۔ کسی حدیث میں بھی یہ تعین نہیں ہے کہ یہ کن چیزوں کی صفات ہیں۔ اس لیے صحابہ اور تابعین کی تفسیریں اس معاملہ میں مختلف ہو گئیں۔ بعض حضرات نے ان پانچوں صفات کا موصوف فرشتوں کو قرار دیا ہے اور بعض نے ان کا موصوف ہوائوں کو قرار دیا ہے۔ جبکہ بعض حضرات نے ان کا موصوف انبیاء ورسل کو قرار دیا ہے۔ ابن کثیر  نے فرمایا کہ شروع کی تین صفات ہوائوں کے لیے ہیں۔ ان تین میں ہوائوں کی قسم ہے۔ باقی دو صفتیں فرشتوں کے لیے ہیں تو یہ فرشتوں کی قسم ہے۔ (معارف القرآن)"

{فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا ۙ﴿۲﴾} 

[فَالْعٰصِفٰتِ: پھر قسم ہے جھونکا دینے والیوں کی] [عَصْفًا: جیسے جھونکا دیتے ہیں]"

{وَّ النّٰشِرٰتِ نَشۡرًا ۙ﴿۳﴾} 

[وَّالنّٰشِرٰتِ: اور قسم ہے پھیلانے والیوں کی] [نَشْرًا: جیسے پھیلاتے ہیں]"

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں