اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ القیامۃ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

{لَاۤ اُقۡسِمُ بِیَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۙ﴿۱﴾} 

[لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ: نہیں میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی]

نوٹ۔1: یہاں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اور ملامت کرنے والے نفس (ضمیر) کی قسم جس بات پر کھائی ہے اسے بیان نہیں کیا گیا کیونکہ بعد کا فقرہ خود اس بات پر دلالت کر رہا ہے۔ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ ضرور پیدا کرے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات پر ان دو چیزوں کی قسم کس مناسبت سے کھائی گئی ہے۔

 جہاں تک روز قیامت کا تعلق ہے، اس کی قسم کھانے کی وجہ یہ ہے کہ پوری کائنات کا نظام اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ یہ نظام نہ ہمیشہ سے تھا اور نہ ہمیشہ باقی رہ سکتا ہے۔ جتنا جتنا اس دنیا کے متعلق انسان کا علم بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی یہ امر یقینی ہوتا چلا جاتا ہے کہ اس نظام کی ایک ابتدا ہے جس سے پہلے یہ نہ تھا اور لازماً اس کی ایک انتہا ہے جس کے بعد یہ نہ رہے گا۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے وقوع پر خود قیامت کی ہی قسم کھائی ہے لیکن روز قیامت کی قسم صرف اس امر کی دلیل ہے کہ ایک دن یہ نظام کائنات درہم برہم ہو جائے گا۔ رہی یہ بات کہ اس کے بعد انسان دوبارہ اٹھایا جائے گا اور اس کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہو گا، تو اس کے لیے دوسری قسم نفس لوامہ کی کھائی گئی ہے۔ کوئی انسان دنیا میں موجود نہیں ہے جو اپنے اندر ضمیر نام کی ایک چیز نہ رکھتا ہو۔ اس کا ضمیر اسے برائی کرنے اور بھلائی نہ کرنے پر ٹوکتا ضرور ہے۔ یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ انسان ایک اخلاقی وجود ہے اور وہ خود اپنے آپ کو اپنے اچھے اور برے افعال کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ اب اگر انسان میں نفس لوامہ کی موجودگی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے، تو پھر یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ یہی نفس لوامہ زندگی بعدِ موت کی ایک ایسی شہادت ہے جو خود انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ کیونکہ فطرت کا یہ تقاضہ کہ انسان کو اچھے اور برے اعمال کی جزا یا سزا ضرور ملنی چاہیے، زندگی بعد موت کے سوا کسی دوسری صورت میں پورا نہیں ہو سکتا۔ (تفہیم القرآن)

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں