اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

{سَاُصۡلِیۡہِ سَقَرَ ﴿۲۶﴾} 

[سَاُصْلِيْهِ سَقَرَ: میں ڈالوں گا اس کو جھلسانے والی (دوزخ) میں]"

{وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا سَقَرُ ﴿ؕ۲۷﴾} 

[وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُ: اور آپؐ کیا جانیں کیا ہے جھلسانے والی]

ترکیب: (آیت۔27) سَقَرُ غیر منصرف ہے اور مؤنث سماعی بھی ہے۔ اس لیے آگے مُبْقِیْ۔ تَذَرُ۔ لَوَّاحَۃٌ اس کے لیے مؤنث کے صیغے آئے ہیں اور آگے اس کے لیے ضمیریں بھی مؤنث کی آئی ہیں۔"

{لَا تُبۡقِیۡ وَ لَا تَذَرُ ﴿ۚ۲۸﴾} 

[لَا تُبْقِيْ وَلَا تَذَرُ: وہ باقی نہیں رہنے دیتی اور نہ چھوڑتی ہے]"

{لَوَّاحَۃٌ لِّلۡبَشَرِ ﴿ۚۖ۲۹﴾} 

[لَوَّاحَةٌ لِلْبَشَرِ: جھلسانے والی ہے انسانوں کو]

(آیت۔29) لَوَّاحَۃٌ خبر ہے۔ اس کا مبتدا ھِیَ محذوف ہے۔ لِلْبَشَرِ متعلق خبر ہے اور اس پر لام جنس ہے اس لیے اس کا ترجمہ جمع میں ہو گا۔"

{عَلَیۡہَا تِسۡعَۃَ عَشَرَ ﴿ؕ۳۰﴾} 

[عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ: اس پر انیس (فرشتے) ہیں]

(آیت۔30) عَلَیْھَا کی ضمیر سَقَرُ کے لیے ہے۔

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں