اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ المدثر

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 

{یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾} 

[يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ: اے کپڑے میں لپٹنے والے]

د ث ر[دُثُوْرًا: (ن) ] کپڑے کا میلا ہونا۔ بڑھاپے کے آثار ظاہر ہونا۔

(تفعل) تَدَثُرا اِدَّثَّرًا۔ کپڑا اوڑھنا۔ کپڑے میں لپٹنا۔

 مُدَّثِّرٌ: اسم الفاعل ہے۔ کپڑے میں لپٹنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔1۔"

{قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿۲﴾} 

[قُمْ فَاَنۡذِرۡ: آپؐ کھڑے ہوں پھر آپؐ خبردار کریں (لوگوں کو)]"

{وَ رَبَّکَ فَکَبِّرۡ ۪﴿ۙ۳﴾} 

[وَرَبَّكَ فَکَبِّرۡ : اور اپنے رب کی پھر آپؐ بڑائی بیان کریں]

نوٹ۔1: آیت۔3۔ میں حکم دیا گیا کہ صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے، قول سے بھی اور عمل سے بھی۔ اس جگہ لفظ رب اس لیے اختیار کیا گیا کہ یہ اس حکم کی علت ہے کیونکہ جو سارے جہان کا پالنے والا ہے صرف وہی ہر بڑائی اور کبریائی کا مستحق ہے (معارف القرآن) انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں توحید کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے یعنی صرف اللہ ہی کی کبریائی و یکتائی کا اعلان کہ اللہ کے سوا جو بھی کبریائی کے مدعی ہیں یا جن کی کبریائی کا دعوٰی کیا جاتا ہے، وہ سب باطل ہیں۔ ایک جاہلی معاشرہ میں یہ اعلان ساری خدائی سے لڑائی مول لینے کے ہم معنی تھا لیکن دین کی بنیاد چونکہ اسی کلمہ پر ہے اس لیے ہر نبی کو بےدرنگ یہ اعلان کرنا پڑا۔ (تدبر قرآن)

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں