اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ المزمل

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 

{یٰۤاَیُّہَا الۡمُزَّمِّلُ ۙ﴿۱﴾} 

[يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ: اے کپڑا لپیٹنے والے]

زم ل[زَمْلًا: (ن) ] کسی کو سواری پر پیچھے بٹھانا۔

(تفعل) تَزَمَّلًا اور اِزَّمُّلاً۔ کپڑے کو اپنے اوپر لپیٹ لینا۔

مُزَّمِّلٌ: اسم الفاعل ہے۔ لپیٹنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔1"

{قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا ۙ﴿۲﴾} 

[قُمِ الَّيْلَ: آپؐ کھڑے رہیں رات کے وقت] [اِلَّا قَلِيْلًا: سوائے تھوڑے (وقت) کے]

ترکیب: (آیت۔2) ۔ قُمْ: ثلاثی مجرد سے فعل امر ہے، جو کہ لازم ہے، اس کا مفعول نہیں آتا۔ اس لیے اَلَّیْلَ ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔"

{نِّصۡفَہٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡہُ قَلِیۡلًا ۙ﴿۳﴾} 

[نِّصْفَهٗٓ: جو اس (رات) کا آدھا ہے] [اَوِ انقُصْ: یا آپؐ (چاہیں تو) گھٹائیں] [مِنْهُ قَلِيْلًا: اس (نصف) میں سے تھوڑا سا]

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں