نوٹ۔1: ایک دن کا ایک ہزار سال یا پچاس ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مفہوم ہے، اس کی ایک وضاحت آیت نمبر۔22:47، نوٹ۔2 : میں کی جا چکی ہے جبکہ ہمارے طلباء کے علم میں یہ بات بھی ہونی چاہیے کہ ہمارے مفسرین نے ان آیات کو کس طرح سمجھا ہے اور ان کی کیا وضاحت کی ہے۔ چنانچہ اس موقع پر ہم مفسرین کے رائے نقل کر رہے ہیں۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ عذاب جس کا اوپر ذکر آیا ہے، اس کا وقوع اس روز ہو گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی۔ حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی کہ یہ دن کتنا دراز ہو گا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر اتنا ہلکا ہو گا کہ ایک نماز فرض ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہو گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ایک حدیث میں ہے کہ یہ دن مومنین کے لیے اتنا ہو گا جتنا وقت ظہر و عصر کے درمیان ہوتا ہے۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ اس دن کا یہ طول کہ پچاس ہزار سال کا ہو گا، ایک اضافی امر ہے، کہ کفار کے لیے اتنا دراز اور مومنوں کے لیے اتنا مختصر ہو گا۔
اس آیت میں ایک دن کی مقدار پچاس ہزار سال بتائی ہے، جبکہ سورئہ السجدہ کی آیت۔5 میں ایک ہزار سال آئے ہیں۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے۔ ’’ تدبیر کرتے ہیں امر الٰہی کی آسمان سے زمین تک۔ پھر چڑھتے ہیں اس کی طرف ایک ایسے دن میں جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے عام شمار کے اعتبار سے۔‘‘ بظاہر ان دونوں آیتوں کے مضمون میں تضاد ہے۔ اس کا جواب گذشتہ روایات حدیث سے ہو گیا کہ اس دن کا طول مختلف گروہوں کے اعتبار سے مختلف ہو گا۔ کفار کے لیے پچاس ہزار سال کا اور مومنین صالحین کے لیے ایک نماز کا وقت۔ ان کے درمیان مختلف گروہ ہیں۔ ممکن ہے بعض کے لیے ایک ہزار سال کے برابر ہو۔ اور وقت کا دراز و مختصر ہونا، شدت و بےچینی اور عیش و آرام میں مختلف ہونا، مشہور و معروف ہے۔
سورہ السجدہ کی جس آیت میں ایک ہزار سال کا دن بیان کیا گیا ہے، اس کی ایک توجیہہ تفسیر مظہری میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اس آیت میں جس دن کا ذکر ہے وہ دنیا ہی کے دنوں کا ایک دن ہے، اس میں جبریل اور فرشتوں کا آسمان سے زمین پر آنا پھر زمین سے آسمان پر واپس جانا اتنی بڑی مسافت کو طے کرتا ہے کہ انسان اگر طے کرتا تو اس کو ایک ہزار سال لگتے کیونکہ احادیث میں آیا ہے کہ آسمان سے زمین تک پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ اس طرح پانچ سو سال اوپر سے نیچے آنے کے اور پانچ سو واپس جانے کے، یہ کل ایک ہزار سال انسانی چال کے اعتبار سے ہیں’ بالغرض اگر انسان اس مسافت کو طے کرتا تو آنے اور جانے میں ایک ہزار سال لگ جاتے۔ اگرچہ فرشتے اس مسافت کو بہت ہی مختصر وقت میں طے کر لیتے ہیں۔ تو سورئہ سجدہ میں دنیا ہی کے دنوں میں سے ایک دن کا بیان ہوا اور سورئہ معارج میں قیامت کے دن کا بیان ہے جو ایّام دنیا سے بہت بڑا ہو گا اور اس کی درازی اور کوتاہی مختلف لوگوں پر اپنے اپنے حالات کے اعتبار سے مختلف محسوس ہو گی۔ (معارف القرآن)"
{فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِیۡلًا ﴿۵﴾}
[فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيْلًا: تو آپ صبر کریں جیسے خوبصورت صبر کرنا ہوتا ہے]"





