سورۃ الملک
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الۡمُلۡکُ ۫ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرُۨ ۙ﴿۱﴾}
[تَبٰرَكَ الَّذِیۡ : بابرکت ہوئی وہ (ذات)][ بِيَدِهِ: جس کے ہاتھ میں][ الْمُلْكُ : ساری بادشاہت ہے][ وَهُوَ عَلٰي کُلِّ شَيْءٍ: اور وہ ہر چیز پر][ قَدِيْرُ: قدرت رکھنے والا ہے]
نوٹ۔1: حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سورۃ عذاب کو روکنے والی اور عذاب سے نجات دلانے والی ہے۔ یہ اپنے پڑھنے والے کو عذاب سے بچائے گی۔ (معارف القرآن)"
{الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفُوۡرُ ۙ﴿۲﴾}
[الَّذِیۡ خَلَقَ: جس نے پیدا کیا][ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ: موت کو اور حیات کو][ لِيَبْلُوَكُمْ: تاکہ وہ جانچے تم لگوں کو (کہ)][ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ: تم لوگوں کا کون زیادہ اچھا ہے][ عَمَلًا : بلحاظ عمل کے][ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْر: اور وہ ہی بالا دست ہے بےانتہا بخشنے والا ہے]
نوٹ۔2: آیت۔2 میں ہے کہ اس نے پیدا کیا موت اور قیامت کو۔ حیات کے لیے پیدا کرنے کا لفظ تو اپنی جگہ ظاہرہے، کہ حیات ایک وجودی چیز ہے۔ لیکن موت جو بظاہر ایک عدم کا نام ہے، اس کے ساتھ تخلیق کا تعلق کس طرح ہوا۔ اس کے جواب میں ائمہ تفسیر سے متعدد اقوال منقول ہیں۔ سب سے زیادہ واضح بات یہ ہے کہ موت عدم محض کا نام نہیں ہے بلکہ روح اور بدن کا تعلق منقطع کر کے روح کو ایک مکان سے دوسرے مکان میں منتقل کرنے کا نام ہے اور یہ ایک وجودی چیز ہے۔ غرض جس طرح حیات ایک حال (یعنی حالت) سے جو جسم انسانی پر طاری ہوتا ہے، اسی طرح موت بھی ایک ایسا ہی حال ہے۔ (معارف القرآن)





