اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ التحریم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ    

{یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ۚ تَبۡتَغِیۡ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِکَ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱﴾} 

[يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ: اے نبی آپ کیوں حرام کرتے ہیں] [مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ: اس کو جسے حلال کیا اللہ نے آپ کے لیے] [تَبْتَغِيْ: آپ جستجو کرتے ہیں] [مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ: اپنی ازواج کے راضی ہونے کی] [وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: اور اللہ بےانتہا بخشنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے]"

{قَدۡ فَرَضَ اللّٰہُ لَکُمۡ تَحِلَّۃَ اَیۡمَانِکُمۡ ۚ وَ اللّٰہُ مَوۡلٰىکُمۡ ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲﴾} 

[قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ: فرض کردیا ہے اللہ نے آپ لوگوں کے لیے ] [تَحِلَّةَ اَیۡمَانِکُمۡ: اپنی قسموں کا کفارہ ادا کرنے کو] [وَاللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ: اور اللہ ہی آپ لوگوں کا کارساز ہے] [وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ: اور وہ ہی جاننے والا ہے حکمت والا ہے]

نوٹ۔1: حضرت عائشہ ؓروایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ عصر کے بعد تمام ازواج مطہرات کے پاس چکر لگاتے تھے۔ ایک موقعہ پر آپ حضرت زینبؓ کے ہاں زیادہ دیر تک بیٹھنے لگے، کیونکہ ان کے ہاں کہیں سے شہد آیا ہوا تھا اور آپ وہاں شہد کا شربت نوش فرماتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ مجھ کو اس پر رشک آیا اور میں نے حضرت حفصہؓ، حضرت سودہؓ اور حضرت صفیہؓ سے مل کر یہ طے کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی آپ آئیں وہ آپ سے یہ کہے کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے۔ مغافیر ایک قسم کا پھول ہوتا ہے جس میں کچھ ساند ہوتی ہے اور اگر شہد کی مکھی اس سے شہد حاصل کرے تو اس کے اندر بھی اس ساند کا اثر آ جاتا ہے۔ جب متعدد بیویوں نے یہ کہا تو آپ نے یہ عہد کرلیا اب یہ شہد استعمال نہیں کریں گے۔ (تفہیم القرآن) آیت۔1 میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔

نوٹ۔2: اوپر کی آیت میں خطاب صرف نبی ﷺ سے تھا جبکہ آیت۔2۔ میں عام مسلمانوں سے خطاب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ٹوکنے سے اصل مقصود یہ تھا کہ اس کے سبب سے امت کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو۔ چنانچہ اس آیت میں تمام مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا گیا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر کسی جائز چیز کو حرام کرنے کی قسم کھا بیٹھے تو اللہ نے اس کے لیے یہ ضروری ٹھہرایا ہے کہ وہ اس قسم کو توڑ دے۔ اور کفارہ کا حکم المائدہ کی آیت۔89۔ میں بیان ہو چکا ہے۔ (تدبر قرآن)

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں