سورۃ المنافقون
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{اِذَا جَآءَکَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا نَشۡہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُ اللّٰہِ ۘ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُہٗ ؕ وَ اللّٰہُ یَشۡہَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ لَکٰذِبُوۡنَ ۚ﴿۱﴾}
[اِذَا جَآءَکَ الْمُنٰفِقُوْنَ : جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق لوگ] [قَالُوْا: تو وہ کہتے ہیں (کہ)] [نَشْهَدُ اِنَّکَ : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ] [لَرَسُوْلُ اللّٰهِ: یقینا اللہ کے رسول ہیں] [وَاللّٰهُ يَعْلَمُ: اور اللہ جانتا ہے] [اِنَّکَ لَرَسُوْلُهٗ: کہ آپ یقینا اس کے رسول ہیں] [وَاللّٰهُ يَشْهَدُ: اور اللہ گواہی دیتا ہے] [اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَكٰذِبُوْنَ: کہ منافق لوگ یقینا جھوٹے ہیں]
ترکیب: (آیت۔1) عام قاعدہ یہ ہے کہ اِنَّ جملہ کے شروع میں آتاہے اور اَنَّ جملہ کے درمیان میں آتا ہے۔ اس کا ایک استثنا ہم پڑھ چکے ہیں کہ قَالَ یا اس کے مشتقات سے شروع ہونے والے جملوں کے درمیان میں اِنَّ آتاہے لیکن ایسی صورت میں اِنَّ کے معنی ’’ بیشک‘‘ نہیں بلکہ ’’ کہ‘‘ ہوتے ہیں، (دیکھیں آیت نمبر۔2:25، نوٹ۔2) ۔ اب آیت زیر مطالعہ میں اس قاعدے کا دوسرا استثنا آیا ہے۔ اس آیت میں نَشْھَدُ۔ یَعْلَمْ اور یَشْھَدُ تینوں افعال کے بعد اِنَّ کے بجائے اَنَّ آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر پر اگر لام تاکید آ رہا ہو تو پھر جملے کے درمیان میں اَنَّ کے بجائے اِنَّ آتا ہے اور ایسی صورت میں بھی اس کا ترجمہ ’’ کہ‘‘ ہی کیا جاتاہے۔
نوٹ۔1: جس خاص واقعہ کے بارے میں یہ سورہ نازل ہوئی ہے اس کا ذکر کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ مدینہ کے منافقین کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈال لی جائے، کیونکہ جو واقعہ اس موقع پر پیس آیا تھا وہ محض ایک اتفاقی حادثہ نہ تھا، بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا سلسلۂ واقعات تھا۔
مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے اوس اور خزرج کے قبیلے آپس کی خانہ جنگیوں سے تھک کر ایک شخص کی قیادت پر متفق ہو چکے تھے اور اس کو اپنا بادشاہ بنا کر باقاعدہ اس کی تاجپوشی کرنے والے تھے۔ یہ شخص قبیلہ خزرج کا رئیس عبد اللہ بن اُبی تھا۔ اس صورتحال میں اسلام کا چرچا مدینے پہنچا اور دونوں قبیلوں کے بااثر لوگ مسلمان ہونا شروع ہو گئے۔ اس کے بعد جب حضور ﷺ مدینے پہنچے تو انصار کے ہر گھرانے میں اسلام اتنا پھیل چکا تھا کہ عبد اللہ بن ابی بےبس ہو گیا اور اس کو اپنی سرداری بچانے کے لیے اس کے سوا کوئی صورت نظر نہ آئی کہ خود بھی مسلمان ہو جائے۔ چنانچہ وہ اپنے ان بہت سے ساتھیوں کے ساتھ، جن میں دونوں قبیلوں کے سردار شامل تھے، داخل اسلام ہو گیا۔ حالانکہ ان سب کے دل جل رہے تھے۔ خاص طور پر عبد اللہ ابن ابی کو اس بات کا سخت غم تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی بادشاہت چھین لی ہے۔ کئی سال تک اس کا یہ منافقانہ ایمان اور بادشاہت چھن جانے کا یہ غم طرح طرح کے غم دکھاتا رہا۔





