سورۃ الجمعہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ الۡمَلِکِ الۡقُدُّوۡسِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۱﴾}
[یُسَبِّحُ لِلّٰہِ : تسبیح کرتی ہے اللہ کی] [مَا فِي السَّمٰوٰتِ: (ہر) وہ چیز جو آسمانوں میں ہے] [وَمَا فِي الْاَرْضِ: اور (ہر) وہ چیز جو زمین میں ہے] [الْمَلِكِ: جو بادشاہ ہے] [الْقُدُّوْسِ: پاک ہے] [الْعَزِيْزِ: بالادست ہے] [الْحَكِـيْمِ: حکمت والا ہے]
ترکیب: (آیت۔1) اَلْمَلِکِ سے اَلْحَکِیْمِ تک سارے اسماء لِلّٰہِ کی صفت ہونے کی وجہ سے حالت جر میں ہیں۔"
{ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ٭ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ۙ﴿۲﴾}
[هُوَ الَّذِي بَعَثَ: وہ، وہ ہے جس نے بھیجا] [فِي الْاُمِّيّٖنَ: اَن پڑھ لوگوں میں] [رَسُوْلًا مِّنْهُمْ: ایک ایسا رسول ان میں سے جو] [يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ: پڑھ کر سناتا ہے ان کو اس کی آیتیں] [وَيُزَكِّيْهِمْ: اور تزکیہ کرتا ہے ان کا] [وَیُعَلِّمُہُمُ: اور تعلیم دیتا ہے ان کو] [الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ: اِس کتاب (قرآن) کی اور دانائی کی] [وَاِنۡ کَانُوۡا مِنْ قَبْلُ : اور بیشک وہ لوگ تھے اس سے پہلے] [لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ: یقینا ایک کھلی گمراہی میں]
نوٹ۔1: آیت۔2۔ میں لفظ اُمِّیّٖنَ بنی اسمٰعیل کے لیے ایک امتیازی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ یہ اصطلاح اگرچہ یہود کی وضع کردہ تھی جس میں ان کے اندر کے مذہبی پندار کی جھلک بھی تھی اور اہل عرب کے لیے ان کا جذبۂ تحقیر بھی نمایاں تھا۔ لیکن بنی اسمٰعیل چونکہ کتاب و شریعت سے ناآشنا تھے اس لیے بغیر کسی احساس کمتری کے انھوں نے اس لقب کو اپنے لیے خود بھی اختیار کرلیا پھر جب قرآن نے ان کے لیے اور ان کی طرف مبعوث ہونے والے رسول کے لیے اس لفظ کو ایک امتیازی صفت کے طور پر ذکر کیا تو اس کا رتبہ انتہائی بلند ہو گیا اور جن کو اَن پڑھ اور گنوار کہہ کر حقیر ٹھہرایا گیا تھا وہ تمام عالم کی تعلیم و تہذیب پر مامور ہوئے اور جن کو اپنے حامل کتاب و شریعت ہونے پر ناز تھا وہ کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا کے مصداق قرار پائے (تدبر قرآن)





