اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

سورۃ الحشر

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ      

{سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ۚ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱﴾} 

[سَبَّحَ للّٰهِ: تسبیح کرتا ہے اللہ کی][ مَا فِي السَّمٰوٰتِ: وہ جو (کچھ) آسمانوں میں ہے][ وَمَا فِي الْاَرْضِ: اور وہ جو (کچھ) زمین میں ہے][وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ: اور وہ ہی بالادست ہی حکمت والا ہے]"

{ہُوَ الَّذِیۡۤ اَخۡرَجَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ مِنۡ دِیَارِہِمۡ لِاَوَّلِ الۡحَشۡرِ ؕؔ مَا ظَنَنۡتُمۡ اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا وَ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ مَّانِعَتُہُمۡ حُصُوۡنُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ فَاَتٰىہُمُ اللّٰہُ مِنۡ حَیۡثُ لَمۡ یَحۡتَسِبُوۡا ٭ وَ قَذَفَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الرُّعۡبَ یُخۡرِبُوۡنَ بُیُوۡتَہُمۡ بِاَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَیۡدِی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ٭ فَاعۡتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الۡاَبۡصَارِ ﴿۲﴾} 

[هُوَ الَّذِيٓ اَخْرَجَ: وہ، وہ ہے جس نے نکالا][ الَّذِينَ كَفَرُوْا: ان کو جو مُکر گئے][ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ: اہل کتاب میں سے][ مِنْ دِيَارِهِمْ: ان کے گھروں سے][لِاَوَّلِ الْحَشْرِ: حشر کی پہل کے یے][مَاظَنَنۡتُمۡ: تمھیں گمان نہیں تھا][ اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا : کہ وہ لوگ نکلیں گے][ وَظَنُّوْٓا: اور انھیں گمان تھا][ اَنَّہُمۡ : کہ وہ (وہ) ہیں] [مَانعَتُهُمْ: جن کا بچائو کرنے والے ہیں][ حُصُوْنُهُمْ: ان کے قلعے][ مِّنَ اللّٰهِ: اللہ سے][ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ: تو پہنچا ان کے پاس اللہ[ مِنْ حَيْثُ: وہاں سے جہاں سے][ لَمْ يَحْتَسِبُوْا: انھیں خیال تک نہ تھا][وَقَذَفَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ: اور اس نے ڈالا ان کے دلوں میں][ الرُّعْبَ: رعب][ يُخْرِبُوْنَ: تو وہ لوگ اجاڑتے تھے][ بُيُوْتَهُمْ بِاَيْدِيْهِمْ: اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے][وَاَيْدِي الْمُؤْمِنِيْنَ: اور مومنوں کے ہاتھوں سے][ فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ: تو عبرت حاصل کرو اے بصیرت والو]

 نوٹ۔1 : حضرت ابن عباسؓ  کا قول ہے کہ یہ سورہ غزوئہ بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ مفسرین کا بیان ہے کہ اس میں جن اہل کتاب کے نکالے جانے کا ذکر ہے ان سے مراد بنی نضیر ہی ہیں۔ اس لیے اس سورہ کے مضامین کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مدینہ کے یہودیوں کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈال لی جائے کیونکہ اس کے بغیر کوئی آدمی ٹھیک ٹھیک یہ نہیں جان سکتا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے مختلف قبائل کے ساتھ جو معاملہ کیا اس کے اسباب کیا تھے۔

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں