{عَلٰۤی اَنۡ نُّبَدِّلَ اَمۡثَالَکُمۡ وَ نُنۡشِئَکُمۡ فِیۡ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۱﴾}
[عَلٰٓي اَنْ: اس پر کہ] [نُّبَدِّلَ : ہم تبدیل کردیں (تم کو) ] [اَمْثَالَكُمْ: تمہارے جیسوں سے] [وَنُنْشِـىَٔـكُمْ: اور ہم اٹھائیں تم کو] [فِيْ مَا: اس میں جو] [لَا تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ نہیں جانتے]
نوٹ۔ 2: آیت ۔ 61۔ میں ہے وَنُنْشِـىَٔـكُمْ فِيْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ اس سے مراد قیامت میں اٹھایا جانا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم اس سے عاجز نہیں ہیں کہ تم کو تمہاری موجودہ شکل وہئیت میں پیدا کریں ، اسی طرح ہم اس سے بھی عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری تخلیق کا طریقہ بدل کر کسی اور شکل وہیئت میں، کچھ دوسری صفات کے ساتھ تم کو پیدا کریں ، قیامت کے روز ہم تمھیں اسی عمر کے انسان میں پیدا کرسکتے ہیں جس عمر میں تم مرے تھے۔ آج تمہاری بینائی ، سماعت اور دوسرے حواس کا پیمانہ ہم نے کچھ اور رکھا ہے ۔ قیامت کے روز ہم اسے بدل کر کچھ سے کچھ کردیں گے یہاں تک کہ تم وہ کچھ دیکھ اور سن سکو گے جو یہاں نہیں دیکھ سکتے اور نہیں سن سکتے ۔ آج تمہارے ہاتھ پاؤں اور تمہاری کھال میں کوئی گویائی نہیں ہے۔ قیامت کے روز تمہارا ہر عضو اور تمہارے جسم کی کھال کا ہر ٹکڑا ہمارے حکم سے بولنے لگے گا ۔ آج تم ایک خاص حد تک ہی عذاب برداشت کرسکتے ہو جس سے زائد عذاب ہو تو تم زندہ نہیں رہ سکتے ۔ کل تم ایسا عذاب ایسی طویل مدت تک بھگت سکوگے جس کا تم تصور نہیں کرسکتے اور کسی سخت سے سخت عذاب سے بھی تمہیں موت نہ آئے ۔ آج تم سوچ نہیں سکتے کہ کوئی بوڑھا جوان ہواجائے ، کبھی بیمار نہ ہو اور ہمیشہ ہمیشہ وہ ایک ہی عمر کا جوان رہے ۔ کل ہم تمہاری زندگی کے لیے کچھ دوسرے قوانین بنا سکتے ہیں جن کے مطابق جنت میں جاتے ہی ہر بوڑھا جوان ہوجائے اور اس کی جوانی وتندرستی لازوال ہو ۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ)"
{وَ لَقَدۡ عَلِمۡتُمُ النَّشۡاَۃَ الۡاُوۡلٰی فَلَوۡ لَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۶۲﴾}
[وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ: اور یقینا تم لوگ جان چکے ہو] [النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى : پہلی اٹھان کو] [فَلَوْلَا تَذَكَّرُوْنَ: تو تم لوگ نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے]"
{اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَحۡرُثُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾}
[اَفَرَءَيْتُمْ مَّا: کیا تم لوگوں نے غور کیا اس"[ پر جو][ تَحْرُثُوْنَ : تم لوگ بوتے ہو]"
{ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَہٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ ﴿۶۴﴾}
[ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗٓ: کیا تم لوگ اگاتے ہو اس کو][ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ: یا ہم اگانے والے ہیں]





