{وَ اَصۡحٰبُ الشِّمَالِ ۬ۙ مَاۤ اَصۡحٰبُ الشِّمَالِ ﴿ؕ۴۱﴾}
[وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ ڏ : اور بائیں جانب والے] [مَآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ : کیا (ہوں گے) بائیں جانب والے]"
{فِیۡ سَمُوۡمٍ وَّ حَمِیۡمٍ ﴿ۙ۴۲﴾}
[فِيْ سَمُوْمٍ : (وہ) لُو میں] [وَّحَمِيْمٍ : اور ہمیشہ گرم رہنے والے پانی میں ہوں گے]"
{وَّ ظِلٍّ مِّنۡ یَّحۡمُوۡمٍ ﴿ۙ۴۳﴾}
[وَّظِلٍّ: اور ایک ایسے سائے میں ہوں گے جو] [مِّنْ يَّحْمُوْمٍ: دھونویں سے ہوگا]"
{لَّا بَارِدٍ وَّ لَا کَرِیۡمٍ ﴿۴۴﴾}
[لَّا بَارِدٍ : جو نہ ٹھنڈا ہوگا] [وَّلَا كَرِيْمٍ : اور نہ عزت والا ہوگا]"
{اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِکَ مُتۡرَفِیۡنَ ﴿ۚۖ۴۵﴾}
[اِنَّهُمْ كَانُوْا: بیشک یہ لوگ تھے] [قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِيْنَ : اس سے پہلے خوشحالی دیئے ہوئے]"
{وَ کَانُوۡا یُصِرُّوۡنَ عَلَی الۡحِنۡثِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۚ۴۶﴾}
[وَكَانُوْا يُصِرُّوْنَ: اور وہ جمے رہتے تھے] [عَلَي الْحِنْثِ الْعَظِيْمِ : تمام بڑے گناہوں پر]
نوٹ۔1: الحنث العظیم پر جو الف لام ہے اسے لام جنس بھی مانا جاسکتا ہے اور لام تعریف بھی ۔ اگر لام جنس مانا جائے تو اس سے مراد ہوں گے تمام بڑے گناہ ۔ تفہیم القرآن میں اسی مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ گناہ عظیم کا لفظ جامع ہے۔ اس سے مراد کفر وشرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق واعمال کا ہر بڑا گناہ بھی ۔ ‘‘ ترجمہ میں ہم نے اسی مفہوم کو ترجیح دی ہے ۔ اور اگر لام تعریف مانا جائے پھر اس سے مراد شرک ہے۔





