{وَ لَحۡمِ طَیۡرٍ مِّمَّا یَشۡتَہُوۡنَ ﴿ؕ۲۱﴾}
[وَلَحْمِ طَيْرٍ: اور پرندوں کے گوشت کے ساتھ] [مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ: اس میں سے جو ان کا جی چاہے]"
{وَ حُوۡرٌ عِیۡنٌ ﴿ۙ۲۲﴾}
[وَحُوْرٌ عِيْنٌ : اور (وہاں ) بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی]"
{کَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤَ الۡمَکۡنُوۡنِ ﴿ۚ۲۳﴾}
[كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُـہ: موتی کی مثالیوں کے جیسے] [الْمَكْنُوْنِ: ڈھانپے ہوئے (پلکوں میں)]"
{جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۴﴾}
[جَزَآءًۢ بِمَا: بدلہ ہوتے ہوئے بسبب اس کے جو] [كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ لوگ عمل کیا کرتے تھے]"
{لَا یَسۡمَعُوۡنَ فِیۡہَا لَغۡوًا وَّ لَا تَاۡثِیۡمًا ﴿ۙ۲۵﴾}
[لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا : وہ نہیں سنیں گے اس میں] [لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا: کوئی واہی تباہی اور نہ الزام تراشی کرنا]
(آیت ۔25۔ 26) یہ جملہ منفی ہے اس لیے اس میں الا کوئی اعرابی عمل نہیں کرے گا ۔ لا یسمعون کا مفعول ہونے کی وجہ سے لغوا ، تاثیما حالت نصب میں ہیں ۔ پھر الا نے لا یسمعون کے لا کو قطع کیا تو اب یسمعون کا مثبت مفعول قیلا آیا ہے جبکہ قیلا کا بدل ہونے کی وجہ سے سلما ، سلما حالت نصب میں ہیں ۔
نوٹ ۔1: گزشتہ سورتوں میں سورہ ق سے لے کر سورہ رحمن تک جزاء وسزا سے متعلق ہونے والی بحث کا خلاصہ اس سورہ واقعہ میں رکھ دیا گیا ہے پچھلی سورتوں میں آفاق وانفس اور عقل وفطرت کی روشنی میں اس موضوع کے تمام پہلو زیر بحث آئے ہیں اب اس سورہ میں دلائل کی وضاحت کے بجائے اصل نتیجہ سے آگاہ کیا گیا ہے کہ قیامت ایک ہونی شدنی بات ہے انسانوں کو لازما ایک ایسے جہاں سے سابقہ پیش آنے والا ہے جس میں عزت وذلت کے پیمانے ان پیمانوں سے بالکل مختلف ہوں گے جو اس جہاں میں معروف ہیں ۔ وہاں عزت وسرفرازی ان کے لیے ہوگی جنھوں نے اس دنیا میں ایمان اور عمل صالح کی کمائی کی ہوگئی وہ مقربین اور اصحاب الیمین کے درجے پائیں گے اور جنت کی تمام کامرانیاں انہی کے حصہ ہوں گی رہے وہ جو اس دنیا کو ہی سب سمجھ بیٹھے اور اسی میں مگن ہوگئے وہ اصحاب الشمال میں ہوں گے اور ان کو دوزخ کے ابدی عذاب سے سابقہ پیش آئے گا ۔ (تدبر قرآن)





