اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۶۱﴾} 

[فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]"

{وَ مِنۡ دُوۡنِہِمَا جَنَّتٰنِ ﴿ۚ۶۲﴾} 

[وَمِنْ دُوْنِهِمَا [ اور ان دو (باغ) کے علاوہ ] جَنَّتٰنِ [ دو باغ (اور بھی ) ہیں ]"

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۶۱﴾} 

[فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]"

{مُدۡہَآ مَّتٰنِ ﴿ۚ۶۴﴾} 

[مُدۡہَآ مَّتٰنِ [(یہ دونوں باغ) سیاہی مائل سبز ہیں ]

د ھ م : (ف ، س) دھما ۔ اچانک آگرنا ، دھم سے آپڑنا ۔ (تفعیل ) تدھیما :آگ کا ہانڈی کو سیاہ کرنا ۔ (افعلال ) ادھماما ۔ سیاہی مائل ہوجانا ۔ مدھام ۔ اسم الفاعل ہے۔ سیاہی مائل ہوجانے والا (ایسے گہرے سبز رنگ کیلیے آتا ہے جو سیاہی مائل ہوگیا ہو ) زیرمطالعہ آیت ۔ 64۔

نوٹ۔1: آیت ۔ 46۔ میں دو جنتوں کے سوا اب آیت ۔ 62۔ میں دو اور جنتوں کا ذکر ہے جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے مذکورہ جنتوں کے ساتھ اشتراک بھی رکھتی ہیں اور بعض اعتبار سے ان سے مختلف بھی ہیں ۔ ان کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں قسم کی جنتوں کے حقدار ایک ہی قسم کے لوگ ہوں گے یا الگ الگ قسم کے لوگ ۔ آگے سورہ واقعہ میں اہل ایمان کو دو گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے اصحب المیمنہ اور السابقون ۔ اس وجہ سے قرین قیاس بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ آیت ۔ 46۔ میں سابقون یعنی مقربین کی جنت کا ذکر ہے اور اب آیت ۔ 62۔ میں اصحب المیمنہ یعنی صالحین کی جنت کا ذکر ہے ۔ ظاہر ہے کہ جس طرح دونوں گروہوں کے مرتبہ میں فرق ہے، اسی طرح دونوں گروہوں کی جنتوں میں بھی فرق ہے۔ (تدبر قرآن )"

 

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں