اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

{وَ لَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴿ۚ۴۱﴾} 

[وَلَقَدْ جَآءَ [ اور بیشک آچکے ] اٰلَ فِرْعَوْنَ [ فرعون کے پیروکاروں کے پاس ] النُّذُرُ [ خبردار کرنے والے]"

{کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا کُلِّہَا فَاَخَذۡنٰہُمۡ اَخۡذَ عَزِیۡزٍ مُّقۡتَدِرٍ ﴿۴۲﴾} 

[كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا [ انہوں نے جھٹلایا ہماری نشانیوں کو ] كُلِّهَا [ ان کے کل کو ] فَاَخَذْنٰهُمْ [ تو ہم نے پکڑا ان کو ] اَخْذَ عَزِيْزٍ [ ایک زبردست کا پکڑنا ] مُّقْتَدِرٍ [ جو پوری طرح قابو یافتہ ہے ]"

{اَکُفَّارُکُمۡ خَیۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓئِکُمۡ اَمۡ لَکُمۡ بَرَآءَۃٌ فِی الزُّبُرِ ﴿ۚ۴۳﴾} 

[اَكُفَّارُكُمْ [کیا تمہارے کافر لوگ] خَيْرٌ [ بہتر ہیں ] مِّنْ اُولٰٓئِکُمۡ [ ان لوگوں سے ] اَمْ لَكُمْ بَرَآءَۃٌ [ یا تمہارے لیے کوئی (اعلان ) براءت ہے] فِي الزُّبُرِ [ صحیفوں میں ]

نوٹ۔ 2: آیت ۔ 43۔ میں قریش سے خطاب کرکے فرمایا کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا انجام تم نے سن لیا ۔ اب بتاؤ کہ انہی کی روش جب تم نے اختیار کی ہے تو اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ اس سے مختلف معاملہ کیوں کرے گا ۔ کیا تمہاری قوم کے کفار ان سے بہتر ہیں یا آسمانی صحیفوں میں تمہارے لیے کوئی برات نامہ لکھا ہوا ہے کہ تم جو چاہو کرو تم سے کوئی پوچھ کچھ نہیں ہوگی ۔ اللہ کے عدل کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ہر ایک کے ساتھ ایک ہی قانون کے تحت معاملہ کرے۔ (تدبر قرآن )"

{اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ نَحۡنُ جَمِیۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ ﴿۴۴﴾} 

[اَمْ يَقُوْلُوْنَ [ یا وہ لوگ کہتے ہیں ] نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ [ ہم بدلہ لینے والی جماعت ہیں ]

نوٹ۔3: آیات ۔ 44۔ 45 میں وہ صریح پیشنگوئی ہے جو ہجرت سے پانچ سال پہلے کردی گئی تھی کہ قریش کی جمعیت ، جس کی طاقت کا انھیں بڑا زعم تھا ، مسلمانوں سے شکست کھاجائے گی ، اس وقت کوئی شخص یہ تصور تک نہ کرسکتا تھا کہ یہ انقلاب کیسے ہوگا ۔ مسلمانوں کی بےبسی کا حال یہ تھا کہ ان میں سے ایک گروہ ملک چھوڑ کر حبشہ میں پناہ گزیں تھا اور باقی بچے ہوئے اہل ایمان شعب ابی طالب میں محصور تھے ۔ اس وقت کون یہ سمجھ سکتا تھا کہ سات ہی برس کے اندر نقشہ بدل جانے والا ہے۔ حضرت عمرؓ   فرماتے تھے کہ جب سورہ قمر کی یہ آیت نازل ہوئی تو میں حیران تھا کہ آخر یہ کون سی جمعیت ہے جو شکست کھائے گی مگر جب جنگ بدر میں کفار شکست کھا کر بھاگ رہے تھے اس وقت میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ زرہ پہنچے ہوئے آگے کی طرف جھپٹ رہے ہیں اور آپ ﷺ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ جاری ہیں۔  سیھزم الجمع ویولون الدبر ۔ تب میری سمجھ میں آیا کہ یہ تھی وہ ہزیمت جس کی خبر دی گئی تھی ، (تفہیم القرآن)

اگلاصفحہ
پچھلا صفحہ

منتحب کریں:

شیئرکریں