سورۃ القمر
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
{اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَ انۡشَقَّ الۡقَمَرُ ﴿۱﴾}
[اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ قریب ہوئی وہ گھڑی (قیامت ) ] وَانْشَقَّ الْقَمَرُ [ اور پھٹ گیا چاند ]
نوٹ۔1: آیت ۔ 1۔ میں شق قمر کے واقعہ کو قرب قیامت کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ قیامت کو کفار ایک بعید از عقل چیز خیال کرتے تھے ۔ ان کے خیال میں یہ کس طرح ممکن ہوگا کہ یہ ساری کائنات ایک دن بالکل درہم برہم ہوجائے۔ زمین اور اس کے پہاڑوں وغیرہ کو وہ اٹل اور غیر فانی سمجھتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے شق قمر کی نشانی دکھا کر بتا دیا کہ اس کائنات کی کوئی بھی چیز نہ خود مختار ہے اور نہ غیر فانی ہے بلکہ ہر چیز اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ وہ جب چاہے گا ان کو درہم برہم کردے گا ۔ بعض لوگوں نے کہا ہے یہ قیامت کے دن پیش آنے والے واقعہ کی خبر ہے جس کو ماضی کے صیغے میں اس کی قطعیت کے اظہار کے لیے بیان فرمایا گیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ قیامت میں پیش آنے والے واقعات قرآن میں ماضی کے صیغے میں بیان ہوئے ہیں لیکن اگر یہ معنی لیے جائیں تو مفہوم آگے والی بات سے بےجوڑ ہوجاتا ہے ۔ آگے یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ کوئی سی بھی نشانی دیکھیں گے تو اس میں اعراض ہی کریں گے ۔ اگر چاند کے پھٹنے کا تعلق قیامت سے ہوتا تو اس کے آگے نشانی کا ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی ، (تدبیر قرآن) ۔
اعتراض کرنے والے ایک اعتراض یہ کرتے ہیں کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے کہ چاند جیسے عظیم کرے کے دوٹکڑے پھٹ کر الگ ہوجائی اور سینکڑوں میل کے فاصلے تک ایک دوسرے سے دور جانے کے بعد پھر باہم جڑ جائیں قدیم زمانے میں تو شاید یہ اعتراض چل سکتا تھا لیکن موجودہ دور میں سیاروں کی ساخت کے متعلق انسان کو جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کی بنا پر یہ بات بالکل ممکن ہے کہ ایک کرہ اپنے اندر کی آتش فشانی کے باعث پھٹ جائے اور اس زبر دست انفجار سے اس کے دوٹکڑے دور تک چلے جائیں اور پھر اپنے مرکز مقناطیسی قوت کے سبب سے وہ ایک دوسرے کے ساتھ آملیں ۔ (تفہیم القرآن)





